(۱۹) سوال۔ اگر مسیح ابن مریم درحقیقت فوت ہوگیاہے تو پھر کیا یہ بات جو تیرہ سو برس سے آج تک مشہور چلی آتی ہے کہ مسیح زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا آج غلط ثابت ہوگئی؟
امّاالجواب۔ پس واضح ہو کہ یہ بالکل افتراء ہے کہ تیرہ سو برس سے بالاجماع یہی مانا گیاہے کہ مسیح جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایاگیاہے۔ ظاہر ہے ؔ کہ اگر سلف اور خلف کا کسی ایک بات پر اجماع ہوتا تو تفسیروں کے لکھنے والے متفرق قولوں کو نہ لکھتے لیکن کونسی ایسی تفسیر ہے جو اس بارہ میں اقوال متفرقہ سے خالی ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ مسیح نیند کی حالت میں اُٹھایا گیا اورکبھی کہتے ہیں کہ وہ مر گیا اور اس کی روح اٹھائی گئی اور کبھی قرآن شریف کی غلطی نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت 3 ۱ میں دراصل مُتَوَفِّیْکَ بعد میں ہونا چاہیئے اور رَافِعُکَ اِلَیَّ اس سے پہلے۔اب ظاہر ہے کہ اگر اُن کا اجماع ایک خاص شق پر ہوتا تو اپنی تفسیروں میں مختلف اقوال کیوں جمع کرتے۔اورجب ایک خاص بات پر یقین ہی نہیں تو پھر اجماع کہاں۔اوریہ اعتراض کہ تیرہ سو برس کے بعد یہ بات تمہیں کو معلوم ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہ قول نیا تونہیں پہلے راوی اس کے تو ابن عباس ہی تھے لیکن اب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پراس قول کی حقیقت ظاہرکر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کردیا تا قولی طور پر اپنے ایک عاجز بندہ کی اس طرح پر ایک کرامت دکھاوے اور تا عقلمند لوگ سمجھ جاویں کہ یہ رہبری خاص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کیونکہ اگر یہ معمولی فہم اور عقل کاکام ہوتا تو دوسرے لوگ بھی اس صداقت کو مع اِس کے اُن سب دلائل کے جو اِن رسالوں میں درج ہوچکے ہیں بیان کرسکتے۔
ابؔ یہ تمام سوالات ختم ہوئے اوران سوالات سے بجز اس کے کہ صداقت اوربھی ظاہر ہو اور چمکے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکا۔ اس رسالہ کے ناظرین جو اول سے آخر تک اس رسالہ کو پڑھیں گے بخوبی یقین کرلیں گے کہ ہمارے مخالفین کے ہاتھ میں