حدیثیں پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سو برس کے بعد کوئی شخص زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ سو سُنّت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہوگئے ہیں اورآخری زمانہ میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیداہوگا۔لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔
اس جگہ مجھے غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس مسئلہ میں شیعہ اور سنّت جماعت میں جو اختلاف ہے اُس میں کسی تاریخی غلطی کو دخل نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ شیعہ کی روایات کی بعض سادات کرام کے کشفِ لطیف پر بنیاد معلوم ہوتی ہے چونکہ ائمہ اثنا عشرنہایت درجہ کے مقدّس اور راستباز اوراُن لوگوں میں سے تھے جن پر کشف صحیح کے دروازے کھولے جاتے ہیں اس لئے ممکن اور بالکل قرین قیاس ہے جو بعض اکابر ائمہ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پاکر اس مسئلہ کو اُسی طرز اور ایسے رنگ سے بیان کیا ہوجیسا کہ ملاکی کی کتاب میں ملاکی نبی نے ایلیاہ نبی کے دوبارہ آنے کا حال بیان کیا تھا اور جیسا کہ مسیح کے دوبارہ آنے کاشور مچا ہوا ہے اور درحقیقت مراد صاحبِ کشف کی یہ ہو گی کہ کسی زمانہ میں اؔ س امام کے ہمرنگ ایک اَور امام آئے گا جو اس کا ہمنام اورہم قوت اور ہم خاصیت ہوگا گویا وہی آئے گا۔ پھر یہ لطیف نکتہ جب جسمانی خیالات کے لوگوں میں پھیلا تو اُن لوگوں نے موافق اپنی موٹی سمجھ کے سچ مچ یہی اعتقاد کرلیا ہو گا کہ وہ امام صدہا برس سے کسی غارمیں چھپا ہوا ہے اور آخری زمانہ میں باہر نکل آئے گا۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا خیال صحیح نہیں ہے۔یہ عام محاورہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کا ہمرنگ اور ہم خاصیت ہو کر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ گویا وہی آگیا متصوّفین بھی اِن باتوں کے عام طور پر قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بعض اولیاء گذشتہ کی روحیں اُن کے بعد میں آنے والے ولیوں میں سماتی رہی ہیں اور اس قول سے اُنکا مطلب یہ ہے کہ بعض ولی بعض اولیاء کی قوت اور طبع لیکر آتے ہیں گویا وہی ہوتے ہیں۔