چھٹے دن کے قائم مقام ہے۔سو ضرورتھاکہ اس چھٹے دن میں آدم پیدا ہوتا جو اپنی روحانی پیدائش کی رُو سے مثیل مسیح ہے اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل مسیح اور نیزآدم الف ششم کر کے بھیجا جیساکہ اُس نے فرمایا جو براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت اٰدم یعنی میں نے ارادہ کیا جو اپنا خلیفہ پیداکروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ پھر دوسری جگہ فرماتاہے خلق اٰدم فاکرمہ یعنی آدم کو پیدا کیا پھر اس کو عزت بخشی اور جیسا کہ آدم کو تحقیر کی نظر سے دیکھاگیا اور مفسد قرار دیاؔ گیا۔ یہی صورت اس جگہ بھی پیش آئی۔اورچونکہ آدم اور مسیح میں باہم مماثلت ہے اس لئے اس عاجز کانام آدم بھی رکھا گیا اور مسیح بھی۔ (۱۸) سوال۔ ابن صیّاد کو اگر مسیح دجّال قراردیا گیا ہے تو اس سے مسلم کی دمشق والی حدیث کو کیا نقصان پہنچتا ہے کیونکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیّاد گم ہو گیا اور قیامت کے قریب پھر ظاہر ہو گا۔ امّاالجواب۔ ابن صیّاد کا گم ہونا روایت صحیح سے ہرگز ثابت نہیں۔ لیکن اس کا ایمان لانا اور مرنا ثابت ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اورمدینہ میں فوت ہونا اس کا بپایہ ثبوت پہنچ چکاہے۔ علاوہ اس کے فرض محال کے طور پر اگر وہ مفقود الخبر بھی ہو تو کیا اِس سے اُس کا اب تک زندہ رہنا ثابت ہو جائے گا ؟ کیا اب آپ کو وہ صحیح حدیثیں بھی بھول گئیں کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ سے سو برس تک کوئی انسان زمین پر زندہ نہیں رہے گا۔ یہ بات یاد رہے کہ شیعہ لوگ امام محمد مہدی کی نسبت بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایک غار میں چھپ گئے اور مفقود ہیں اور قریب قیامت ظاہر ہوں گے اور سنّت جماعت کے لوگ اُن کے اسؔ خیال کو باطل تصورکرتے ہیں اور یہ