ہو چکی ہیں کیونکر ایک جگہ اکٹھی ہوسکتی ہیں۔لیکن برخلاف اس مضمون کے جو متی کے پچیس ۲۵ باب آیات مذکورہ بالا سے ظاہر ہوتاہے متی کے چوبیسویں باب سے اسی دنیا میں مسیحؔ کا آنا بھی سمجھاجاتاہے اور دونوں قسم کے بیانات میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ آخرت میں جو حشر اجساد کے بعد آئے گا وہ خود مسیح ہے لیکن دنیامیں مسیح کے نام پر آنیوالا مثیل مسیح ہے جو اس کا چھوٹا بھائی اور اُسی کے قول کے مطابق اس کے وجود میں داخل ہے۔دنیا میں آنے کی نسبت مسیح نے صاف کہہ دیا کہ پھر مجھے نہیں دیکھو گے پس وہ کیوں کر دنیا میں آسکتاہے حالانکہ وہ خود کہہ گیا ہے کہ پھرمجھے نہیں دیکھو گے۔
یہ بھی یادرکھناچاہیئے کہ دنیا کے قبول کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اُسی وقت قبول کرلیوے۔ دنیا ہمیشہ آہستہ آہستہ مانتی ہے۔اُن لوگوں کا ہونا بھی تو ضروری ہے کہ جو ایمان نہیں لائیں گے مگر مسیح کے دم کی ہوا سے مریں گے۔ دم کی ہوا سے مرنا حجت قاطعہ سے مرنا ہے۔انجیلوں میں بھی تولکھا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت بعض پکڑے جائیں گے اوربعض چھوڑے جائیں گے یعنی بعض پر عذاب نازل کرنے کے لئے حجت قائم ہوجائے گی۔گویا وہ پکڑے گئے اوربعض نجات پانے کے لئے استحقا ق حاصل کرلیں گے گویا نجات پا گئے۔
(۱۷) سوال۔ اِس وقت مثیلِ مسیح کے آنے کی کیا ضرورت تھی ؟
امّاؔ الجواب۔ اِ س وقت مثیل مسیح کی سخت ضرورت تھی اور نیز اُن ملائک کی جو زندہ کرنے کے لئے اُترا کرتے ہیں سخت حاجت تھی کیونکہ روحانی موت اور غفلت ایک عالم پر طاری ہوگئی ہے اور اللہ جلَّ شَانُہٗ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی اور سخت دلی اور دنیا پرستی پھیل گئی اور وہ تمام وجوہ پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے توریت کی تائید میں مسیح ابن مریم دنیا میں آیا تھا۔ اور دجّال نے بھی بڑے زور کے ساتھ خروج کیا اور حضرت آدم کی پیدائش کے حساب سے الف ششم کا آخری حصہ آگیا جو بموجب آیت