سچ کہتاہوں کہ جب تم نے میرے ان سب چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ نہ کیا تو میرے ساتھ بھی نہ کیا۔ اور وہ ہمیشہ کے عذاب میں جائیں گے پر راستباز ہمیشہ کی زندگی میں۔ اب غور کرنا چاہیئے کہ ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ مسیح نے اپنے بعض مثیلوں کا ذکر کر کے اُن کا دنیا میں آنا اور تکلیف اٹھانا گویا اپنا آنا اورتکلیف اُٹھانا قرار دیاہے اور چھوٹے بھائیوں سے مراد بجُز اُن کے اَور کون لوگ ہوسکتے ہیں جو کسی قدرمسیح کے منصب اور مسیح کی طبیعت اور مسیح کے درجہ سے حصّہ لیں اور اس کے نام پرمامور ہوکر آویں۔ عیسائی تونہیں کہہ سکتے کہ ہم مسیح کے بھائی ہیں۔اورکچھ شک نہیں کہ محدّث نبی کا چھوٹا بھائی ہوتاہے اور تمام انبیاء ِ علّاتی بھائی کہلاؔ تے ہیں۔ اور یہ نہایت لطیف اشارہ ہے جومسیح نے اُن کا آنا اپنا آنا قراردیا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ آنا اس عاجز کا نسبتی طور پر جلالی آنا بھی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے توحید کی اشاعت کے لئے یہ بڑی بڑی کامیابیوں کی تمہید ہے۔اور جلالی آنے سے مراد اگر طریق سیاست رکھاجاوے تو یہ درست نہیں۔یہ بات انصاف سے بعید ہے کہ کوئی شخص غافلوں کے جگانے کے لئے مامور ہو کر آوے اور آتے ہی زدوکوب اور قتل اور سفک دماء سے کام لیوے جب تک پورے طور سے اتمام حجت نہ ہو خدائے تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا۔ غرض مسیح کا جلالی طور پرآنا جن معنوں سے عیسائی بیان کرتے ہیں وہ اس دنیا سے متعلق نہیں۔اس دنیا میں جو مسیح کے آنے کاوعدہ ہے اس وعدہ کو ایسے جلالی طور سے کچھ علاقہ نہیں۔ عیسائیوں نے بات کو کہیں کا کہیں ملا دیا ہے اور حق الامرکو اپنے پر مشتبہ کردیا ہے۔چنانچہ متی کی آیات مذکورہ بالا تو صاف بیان کر رہی ہیں کہ یہ جلالی طور کا آنا اُس وقت ہو گا کہ جب حشر اجساد کے بعد ہر یک کا حساب ہوگا کیونکہ بجُز حشر اجساد کے کامل طور پر شریروں اور راستبازوں کی جماعتیں جو فوت