ا مّا الجواب۔ یہ ذکر جو انجیل متی باب پچیس ۲۵ آیت ۳۱ سے ۴۶ تک ہے۔ جو ابن آدم اپنے جلال سے آوے گا اور سب پاک فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے یہ درحقیقت اس دنیا سے متعلق نہیں بلکہ اس قسم کا آنا اس دنیا کے قطع سلسلہ کے بعد ہے جو حشر اجساد کے بعد وقوع میں آویگا۔ جب ہریک مقدّس نبی اپنے جلال میں ظہورکرے گا اور اپنی اُمت کے راستبازوں کو خوشخبری دے گا اورنافرمانوں کو ملزم کرے گا لیکن انہی آیات میں ؔ مسیح نے بتلا دیا کہ میرا آنا غریبی کی حالت میں بھی ہو گا جیسا کہ اسی انجیل کی چونتیسویں آیت میں لکھاہے۔ اے میرے باپ کے مبارک لوگو! اس بادشاہت کوجو دنیا کی بنیاد ڈالنے سے تمہارے لئے طیار کی گئی میراث میں لو۔ کیونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا میں پیاسا تھاتم نے مجھے پانی پلایا میں پردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھر میں اُتاراننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔ بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔قید میں تھا تم میرے پاس آئے۔ راستباز اُسے جواب میں کہیں گے۔ اے خداوند کب ہم نے تجھے بھوکا دیکھا اور کھانا کھلایا یا پیاسا اور پانی پلایا۔ کب ہم نے تجھے پردیسی دیکھا اوراپنے گھر میں اُتار ا یاننگا تھا اور کپڑا پہنایا۔ ہم کب تجھے بیمار اور قید میں دیکھ کر تجھ پاس آئے۔ تب بادشاہ اُن سے جواب میں کہے گا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ کیا تو میرے ساتھ کیا۔تب وہ بائیں طرف والوں سے بھی کہے گا۔ اے ملعونو! میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں جاؤجو شیطان اور اس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ کیونکہ میں بھوکا تھا پر تم نے مجھےؔ کھانے کونہ دیا۔ پیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہ پلایا۔ پردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھر میں نہ اُتارا۔ننگا تھاتم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا۔ بیماراورقیدمیں تھا تم نے میری خبر نہ لی۔ تب وے بھی جواب میں اُسے کہیں گے اے خداوند کب ہم نے تجھے بھوکا یا پیاسا یا پردیسی یا ننگایا بیمار یا قیدی دیکھا اور تیری خدمت نہ کی۔ تب وہ انہیں جواب میں کہے گا میں تم سے