دیکھتا کہ خداوند کریم ورحیم نے محض فضل وکرم سے اِن تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالیؔ ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامورکیا۔ بلکہ یہ تمام نشان دئے ہیں جو ظاہرہورہے ہیں اورہوں گے اورخدائے تعالیٰ جب تک کھلے طورپر حجت قائم نہ کرلے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتاجائے گا۔ اور یہ جو کہا کہ تمہارے وجود سے ہمیں کیا فائدہ؟ تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیئے کہ جو شخص مامورہوکر آسمان سے آتا ہے اس کے وجود سے علیٰ حسب مراتب سب کو بلکہ تمام دنیا کو فائدہ ہوتا ہے اور درحقیقت وہ ایک روحانی آفتاب نکلتا ہے جس کی کم و بیش دُور دُور تک روشنی پہنچتی ہے۔ اور جیسی آفتاب کی مختلف تاثیریں حیوانات ونباتات وجمادات اور ہریک قسم کے جسم پر پڑ رہی ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو اُن تاثیروں پر باستیفا علم رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ شخص جو مامورہو کر آتا ہے تمام طبائع اوراطراف اکناف عالم پر اس کی تاثیریں پڑتی ہیں اورجبہی سے کہ اس کا پُر رحمت تعیّن آسمان پر ظاہرہوتاہے آفتاب کی کرنوں کی طرح فرشتے آسمان سے نازل ہونے شروع ہوتے ہیں اوردنیا کے دُور دُور کناروں تک جو لوگ راستبازی کی استعداد رکھتے ہیں ان کو سچائی کی طرف قدم اٹھانے کی قوت دیتے ہیں اورپھرخود بخود نیک نہادلوگوں کی طبیعتیں سچ کی طرف مائل ہوتی جاتی ہیں۔ سو یہ سب اس ؔ ربّانی آدمی کی صداقت کے نشان ہوتے ہیں۔ جس کے عہد ظہورمیں آسمانی قوتیں تیز کی جاتی ہیں۔ سچی وحی کا خدائے تعالیٰ نے یہی نشان دیا ہے کہ جب وہ نازل ہوتی ہے توملائک بھی اس کے ساتھ ضرور اُترتے ہیں اور دُنیا دن بدن راستی کی طرف پلٹاکھاتی جاتی ہے۔ سو یہ عام علامت اُس مامور کی ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور خاص علامتیں وہ ہیں جو ابھی ہم ذکر کرچکے ہیں۔ (۱۶) سوال۔ انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح جلال کے ساتھ دُنیا میں آئے گا اور دُنیا اس کو قبول کرلے گی۔ لیکن اس جگہ جلالی ظہور کی کوئی علامت نہیں اور نہ دُنیا نے قبول کیا ہے؟