عشق الٰہی کا ایک نور ہوتاہے جو شخص اس کو دیکھ لے اُس پر نار جہنم حرام کی جاتی ہے۔ اُن سے ذنب اور خطابھی صادر ہوسکتا ہے مگر اُن کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ذنب اورخطا کو بھسم کردیتی ہے اور ان کی خطا ٹھہرنے والی چیز نہیں بلکہ اس چیز کی مانندہے جو ایک تیز چلنے والے پانی میں بہتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ سو اُن کا نکتہ چین ہمیشہ ٹھوکرکھاتا ہے۔ (۱۸) خدائے تعالیٰ اُن کو ضائع نہیں کرتا اور ذلّت اور خواری کی مار اُن پر نہیں مارتا کیونکہ و ہ اس کے عزیز اور اس کے ہاتھ کے پودے ہیں۔ ان کو اس لئے بلندی سے نہیں گراتا کہ تاہلاک کرے بلکہ اس لئے گراتا ہے کہ تا اُن کا خارق عادت طور پر بچ جانا دکھاوے۔ انؔ کو اس لئے آگ میں دھکا نہیں دیتاتا اُن کو جلا کر خاکستر کر دیوے بلکہ اس لئے دھکا دیتا ہے تا لوگ دیکھ لیویں کہ پہلے تو آگ تھی مگر اب کیسا خوشنما گلزار ہے۔ (۱۹) ان کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پور ا نہ ہو جائے جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں اُن کی قبولیت نہ پھیل جائے تب تک البتہ سفرِ آخرت ان کو پیش نہیں آتا۔ (۲۰) اُن کے آثارخیر باقی رکھے جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کئی پشتوں تک اُن کی اولاد اوران کے جانی دوستوں کی اولاد پرخاص طور پر نظرِ رحمت رکھتا ہے اور ان کا نام دنیا سے نہیں مٹاتا۔ یہ آثاراولیاء الرحمن ہیں اور ہریک قسم ان میں سے اپنے وقت پر جب ظاہرہوتی ہے تو بھاری کرامت کی طرح جلوہ دکھاتی ہے۔مگر اس کا ظاہر کرنا خدائے تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہوتاہے۔ اب یہ عاجز بحکم 3 ۱؂ اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں