بغیر خیال کسی ثوا ب کے انتہائی درجہ کا جوش اُن میں خلق اللہ کی بھلائی کے لئے ہوتاہے اور خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اؔ س قدر جوش کس غرض سے ہے کیونکہ یہ امر فطرتی ہوتاہے۔
(۱۴) خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کاتعلق ہوتاہے اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی اُن کے اندرہوتی ہے اور اُن کی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک رازہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کرسکا۔ اس لئے حضرت احدیت میں اُن کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جس کو خلقت نہیں پہچانتی وہ چیز جو خاص طور پر اُن میں زیادہ ہے اور جو سر چشمہ تمام برکات کا ہے اور جس کی وجہ سے یہ ڈوبتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں اورموت تک پہنچ کر پھر زندہ ہوجاتے ہیں اور ذلتیں اُٹھا کر پھر تاجِ عزت دکھا دیتے ہیں اور مہجوراور اکیلے ہوکر پھر ناگہاں ایک جماعت کے ساتھ نظرآتے ہیں وہ یہی رازوفاداری ہے جس کے رشتہ محکم کو نہ تلواریں قطع کرسکتی ہیں اور نہ دنیا کا کوئی بلوہ اور خوف اور مفسدہ اس کو ڈھیلا کرسکتا ہے۔ السّلام علیہم من اللّٰہ وملآئکتہٖ ومن الصلحاء اجمعین۔
(۱۵) پندرہویں علامت ان کی علم قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کے معارف اورحقائق ولطائف جس قدر ان لوگوں کو دئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہرگزنہیں دئے جاتے۔یہ لوگ وہی مطہّرون ہیں جن کے حق میں اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے 33 ۱
(۱۶) ان کی تقریروتحریر میں اللہ جلَّ شَانُہٗ ایک تاثیررکھ دیتاہے جو علماء ظاہری کی تحریروں وتقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے اور بشرطیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔
(۱۷) اُن میں ایک ہیبت بھی ہوتی ہے جو خدائے تعالیٰ کی ہیبت سے رنگین ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ایک خاص طور پر اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور اُن کے چہروں پر