(۴) جب اُن کو کوئی بہت ستاتاہے اورباز نہیں آتا تو اُن کے لئے غضب اس ذات قوی کا جو اُن کا متولّی ہے یکدفعہ بھڑکتا ہے۔ (۵) جب اُن سے کوئی بہت دوستی کرتا ہے اور سچی وفاداری اوراخلاص کے ساتھ اُن کی راہ میں فداہوجاتاہے تو خدائے تعالیٰ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس پر ایک خاص رحمت نازل کرتاہے۔ (۶) اُن کی دعائیں بہ نسبت اَوروں کے بہت زیادہ قبو ل ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ شمار نہیں کرسکتے کہ کس قدر قبول ہوئیں۔ (۷)اُن پر اکثر اسرار غیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو ابھی ظہورمیں نہیں آئیں اُن پر کھولی جاتی ہیں اگر چہ اَور مومنوں کو بھی سچی خوابیں اورسچے مکاشفات معلوم ہوجاتے ہیں مگر یہ لوگ تمام دنیا سے نمبراوّل پر ہوتے ہیں۔ (۸) خدائے تعالیٰ خاص طور پر اُن کا متولّی ہوجاتا ہے اور جس طرح اپنے بچوں کی کوئی پرورش کرتا ہے اس سے بھی زیادہ نگاہِ رحمت اُن پر رکھتاہے۔ (۹) ؔ جب اُن پر کوئی بڑی مصیبت کا وقت آتا ہے تو اُس وقت دوطورمیں سے ایک طور کا ان سے معاملہ ہوتا ہے یا خارق عادت طور پر اس مصیبت سے رہائی دی جاتی ہے اور یا ایک ایسا صبر جمیل عطا کیا جاتاہے جس میں لذّت اور سرور اور ذوق ہو۔ (۱۰)اُن کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے جو تکبّر اور نخوت اور کمینگی اور خود پسندی اورریاکاری اورحسد اور بُخل اورتنگدلی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور بشاشت عطا کی جاتی ہے۔ (۱۱) اُن کی توکّل نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور اس کے ثمرات ظاہرہوتے رہتے ہیں۔ (۱۲) اِن کوان اعمال صالحہ کے بجالانے کی قوت دی جاتی ہے جو دوسرے اُن میں کمزورہوتے ہیں۔ (۱۳) اُن میں ہمدردی خلق اللہ کا مادہ بہت بڑھایاجاتا ہے اور بغیر توقع کسی اجر اور