اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے پاک کلام میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بندگانِ خداکو بہت صاف کررہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیاگیا ہو۔ یقینًا سمجھو کہ روحانی حیات کا تخم ایک رائی کے بیج کی طرح بویا گیا مگر قریب ہے ہاں بہت قریب ہے کہ ایک بڑادرخت ہو کر نظر آئے گا۔ جسمانی خیالات کا ا ؔ نسان جسمانی باتوں کو پسند کرتا ہے اور اُن کو بڑی چیز سمجھتا ہے مگرجس کو کچھ روحانیت کا حصہ دیاگیا ہے وہ روحانی زندگی کا طالب ہوتاہے۔ خدا تعالیٰ کے راستباز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں کو تماشے دکھلائیں بلکہ اصل مطلب اُن کا جذب الی اللہ ہوتا ہے اور آخرکاروہ اسی قوت قدسیہ کی وجہ سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ وہ نور جو اُن کے اندر قوتِ جذب رکھتاہے اگرچہ کوئی شخص امتحان کے طورسے اس کو دیکھ نہیں سکتا بلکہ ٹھوکر کھاتا ہے۔ مگر وہ نور آپ ہی ایک ایسی جماعت کو اپنی طرف کھینچ کر جو کھینچے جانے کے لائق ہے اپنا خارق عادت اثر ظاہرکردیتاہے۔ (۱) خدائے تعالیٰ کے خالص دوستوں کی یہ علامتیں ہیں کہ ایک خالص محبت انکو عطاکی جاتی ہے جس کا اندازہ کرنا اس جہان کے لوگوں کا کام نہیں۔ (۲) اُن کے دلوں پر ایک خوف بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دقائق اطاعت کی رعایت رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ یارِ قدیم آزردہ ہوجائے۔ (۳) ان کو خارق عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنےؔ والوں کو حیران کردیتی ہے۔