اپنے تمام قویٰ چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الٰہی میں فانی ہوجاتی ہیں تو گویا پھر وُہ روح کی حالت سے باہر آکر کلمۃ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتدا میں وہ کلمۃ اللہ تھیں۔ سو کلمۃ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا اُن کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سو انہیں نورکا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے اُن کاخدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے ۔ اور ہمارے ظاہربین علماء اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلماتؔ طیّبہ سے مراد محض عقائد یا اذکار واشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مرادبھی اذکار وخیرات وغیرہ ہیں۔ تو گویا وہ اس تاویل سے علّت او ر معلول کو ایک کردیتے ہیں۔اگر چہ کلمات طیّبہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں۔ (۱۵) سوال۔ مسیح ابن مریم نے تو بہت سے معجزات سے اپنے منجانب اللہ ہونے کاثبوت دیا تھا آپ نے کیا ثبو ت دیا۔ کیا کوئی مُردہ زندہ کردیایا کوئی مادرزاد اندھا آپ سے اچھا ہؤا۔ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ آپ مثیل مسیح ہیں توہمیںآپ کے وجود سے کیا فائدہ ہوا؟ امّاالجواب۔ پس واضح ہو کہ انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی نہیں یہ کیسا مسیح ہے۔ کیونکہ ایسا مردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اوراُس جہان کا سب حال سُناتا اوراپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ میں سے آیا ہوں تم جلد ایمان لے آؤ۔ اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے باپ دادے زندہ کرکے دکھا دیتا اوراُن سے گواہی دلواتا تو بھلا کس کو انکارکی مجال تھی ؔ غرض پیغمبروں نے نشان تو دکھائے مگر پھر بھی بے ایمانوں سے مخفی رہے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مُردوں کے زندہ ہونے کے لئے بہت سا آبِ حیات خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے بے شک جو شخص اس میں سے پئے گا زندہ ہوجائے گا۔بلاشبہ میں اقرارکرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مردے زندہ نہ ہوں اور