گو ؔ اُتنا ہی ذکر فرمایا کہ کسی نبی کا جسم ایسا نہیں بنایا گیا جو بغیر طعام کے رہ سکے۔ مگر اس کے ضمن میںُ کل وہ لوازم ونتائج جو طعام کو لگے ہوئے ہیں سب اشارۃ النص کے طور پر فرما دئے۔ سو اگر مسیح ابن مریم اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گیا ہے تو ضرور ہے کہ طعام کھاتا ہو اورپا خانہ اور پیشاب کی ضروری حاجتیں سب اس کی دامنگیرہوں کیونکہ کلام الٰہی میں کذب جائز نہیں۔اور اگر یہ کہو کہ دراصل بات یہ ہے کہ مسیح اس جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں گیا بلکہ یہ جسم تو زمین میں دفن کیا گیا اورایک اَور نورانی جسم مسیح کو مِلا جو کھانے پینے سے پاک تھا اس جسم کے ساتھ اُٹھایا گیا تو حضرت یہی تو موت ہے جس کا آخر آپ نے اقرارکرلیا۔ ہمارابھی تو یہی مذہب ہے کہ مقدس لوگوں کو موت کے بعد ایک نورانی جسم ملتا ہے اوروہی نورجو وہ ساتھ رکھتے ہیں جسم کی طرح اُنکے لئے ہو جاتا ہے سو وہ اس کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتاہے 3 33 ۱ یعنی پاک روحیں جو نورانی الوجودہیں خدائے تعالیٰ کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح اُن ؔ کارفع کرتا ہے یعنی جس قدرعمل صالح ہو اُسی قدرروح کا رفع ہوتاہے۔
اس جگہ خدائے تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ درحقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لا یُدرک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں۔ اسی بنا ء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے 33 ۲ ۔اورچونکہ یہ سِرّ ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربّی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اورقوتیں اور خاصیتیں پیداہوجاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیّبہ فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں