تاکید کرے اور جماعت مومنین سے دور پھینک دیوے جن کی رفاقت صلٰوۃ کی تکمیل کے لئے ضروری تھی۔ کیا ایسے اُٹھائے جانے سے بجُز بہت سے نقصان عمل اور ضائع ہونے حقوق عباد اور فوت ہونے خدمت امر معروف اورنہی منکر کے کچھ اَور بھی فائدہ ہؤا؟ اگر یہی اٹھارہ سواکانوے برس زمین پر زندہ رہتے تو اُن کی ذات جامع البرکات سے کیا کیا نفع خلق اللہ کو پہنچتا لیکن اُن کے اُوپر تشریف لے جانے سے بجُز اس کے اور کونسا نتیجہ نکلا کہ اُن کی اُمت بگڑ گئی اور وہ خدمات نبوت کے بجالانے سے بکلّی محروم رہ گئے۔
پھر جب ہم اس آیت پر بھی نظر ڈالیں کہ جو اللہ جلّشانُہ‘ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ کوئی جسم کسی بشر کا ہم نے ایسا نہیں بنایا کہ بغیر ر وؔ ٹی کے زندہ رہ سکے تو ہمارے مخالفوں کے عقیدہ کے موافق یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ آسمان پر روٹی بھی کھاتے ہوں پاخانہ بھی پھرتے ہوں اور ضروریات بشرّ یت جیسے کپڑے اور برتن اورکھانے کی چیزیں سب موجود ہوں۔مگر کیا یہ سب کچھ قرآن اور حدیث سے ثابت ہوجائے گا؟ ہرگزنہیں۔ آخر ہمارے مخالف یہی جواب دیں گے کہ جس طرز سے وہ آسمان پر زندگی بسرکرتے ہیں وہ انسان کی معمولی زندگی سے نرالی ہے اور وہ انسانی حاجتیں جو زمین پر زندہ انسانوں میں پائی جاتی ہیں وہ سب اُن سے دورکردی گئی ہیں اور اُن کا جسم اب ایک ایسا جسم ہے کہ نہ خوراک کا محتاج ہے اور نہ پوشاک کااورنہ پاخانہ کی حاجت انہیں ہوتی ہے اور نہ پیشاب کی۔ اورنہ زمین کے جسموں کی طرح اُن کے جسم پر زمانہ اثر کرتاہے اورنہ وہ اب مکلّف احکام شرعیہ ہیں۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ خدائے تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے کہ ان تمام خاکی جسموں کے لئے جب تک زندہ ہیں۔ یہ تمام لوازم غیر منفک ہیں جیسا کہ اس نے فرمایا 33 ۱ ۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں جُز کے ذکر سے کُل مرادہے یعنی