جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد ازوفات ہؤا۔اورپھراَور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔ اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہورؔ تک بخوبی پوری ہو گئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو اُن لوگوں کی رعیّت اورماتحت کردیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اورآج تک صدہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہوں گے۔ ایسے معنے تو بہ بداہت فاسد ہیں۔
دیکھنا چاہیئے کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے جو حضرت مسیح کی زبان سے اللہ جلّ شانُہ‘ فرماتا ہے 333 ۱ یعنی حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے نماز پڑھتارہ اور زکٰوۃ دیتا رہ اور اپنی والدہ پر احسان کرتا رہ جب تک تو زندہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالانا محال ہے۔ اور جو شخص مسیح کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدہ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اس کو اس آیت موصوفہ بالا کے منشاء کے موافق یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جو انجیل اورتوریت کی رُو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح پر اب بھی واجب ہیں حالانکہ یہ تکلیف مالایطاق ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ یہ حکم دیوے کہ اے عیسیٰ جب تک تو زندہ ہے تیر ےؔ پر واجب ہے کہ تو اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہے اور پھرآپ ہی اس کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کو والدہ سے جدا کردیوے اورتابحیات زکٰوۃ کا حکم دیوے اورپھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایسی جگہ پہنچادے جس جگہ نہ وہ آپ زکٰوۃ دے سکتے ہیں اور نہ زکٰوۃ کے لئے کسی دوسرے کو نصیحت کرسکتے ہیں اور صلٰوۃ کے لئے