اُس مُلہم میں ایسی ہوں کہ دوسروں میں پائی نہ جائیں۔
سوؔ جاننا چاہیئے کہ درحقیقت ایسے لوگ واقعی طورپر ملہم نہیں ہوتے بلکہ ایک قسم کے ابتلاء میں مبتلاہوتے ہیں جس کو وہ اپنی نادانی سے الہام سمجھ لیتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ کاحقیقی اور واقعی طور پرمکالمہ کچھ تھوڑی سی بات نہیں۔ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جب ایک تاریکی میں بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے ناگہانی طورپر آفتاب کی طرف کھڑکی کھل جائے تو کیسی یکدفعہ اس کی حالت بدل جاتی ہے اور کیوں کر آسمانی روشنی اس کے حواس پر کام کر کے ایک تبدیل شدہ زندگی اس کے لئے پیدا کردیتی ہے اور کیوں کر تاریکی سے جو بالطبع افسردگی کی موجب ہے باہر نکل کر ایک سرُور و ذوق اس کے دل میں اور ایک روشنائی اس کی آنکھوں میں اور ایک استقامت اس کی حالت میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سو یہی حالت اُس کھڑکی کی ہے جو آسمان کی طرف سے کھلتی ہے اوربہت ہی کم لوگ ہیں جو واقعی اور حقیقی طورپر اُس کو پاتے ہیں اور تم انہیں خارق عادت علامتوں سے شناخت کروگے۔
(۱۴)سوال۔ قرآن شریف سے اگرچہ مسیح کی موت ثابت ہوتی ہے مگر اس موت کا کوئی وقت خاص تو ثابت نہیں ہوتا۔ پس تعارض حدیث اور قرآؔ ن کا دور کرنے کے لئے بجُز اس کے اَورکیا راہ ہے کہ اس موت کا زمانہ وہ قرار دیاجائے کہ جب پھر حضرت مسیح نازل ہوں گے۔
امّاالجواب۔پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بیّنہ اسی بات پر بصراحت دلالت کررہی ہیں کہ مسیح اپنے اُسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتاہے 3 33۔ ۱ اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ پہلے لکھا ہے اور رَافِعُکَ بعد ا س کے بیان فرمایا ہے