شہادت دے رہی ہے جس قدر دنیا میں عقلمند ہیں یا ایسے زاہد جن کے دل درحقیقت اس پا ک سلسلے سے بے نصیب ہیں اُن کے چال چلن اور ان کا اخلاقی انقباض اور اُن کے سفلی خیالات اور ان کی سب شرمناک کارستانیاں اس میرے بیان پر شاہدہیں کہ وہ بغیر اس چشمہ طیبہ کے کس قدر قابل کراہت کثافتوں میں مبتلا ہیں اور جس طرح گندے کنوئیں کے پانی کے ایک قطرہ سے اس کی تمام کثافت ثابت ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اُن کے گندے خیالات اپنے بُرے نمونہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگر چہ ایسے لوگوں کی فلاسفی عام خیالات میں ہل چل مچانے والی ہو مگر چونکہ سچی روشنی اس کے ساتھ نہیں اس لئے وہ جلداوربہت جلد اپنی ظلمت دکھا دیتی ہے اورباوجود تمام لاف وگزاف ہمہ دانی کے ایسے لوگوں کی اندرونی حالت ہاتھ پھیلا پھیلا کراپنی مفلسی ظاہرکرتی رہتی ہے اور بسا اوقات روحانی تشفّی کے نہ ملنے کی و جہؔ سے ایسے فلاسفروں اور حکیموں اورمولویوں اور فاضلوں سے ایسی حرکتیں صادر ہوجاتی ہیں جن سے صاف شہادت ملتی ہے کہ وہ تسلّی بخش چشمہ سے کیسے اور کس قدر دُور و مہجور ہیں اور کیونکر حقیقی خوشحالی کے نہ پانے کے سبب سے ایک عذاب الیم یا یوں کہو کہ ایک درد اور جلن اوربے چینی میں دن رات مبتلاہیں۔
اس جگہ بعض دلوں میں بالطبع یہ اعتراض پیداہوگا کہ اکثرلوگ الہام کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ فقرات الہامیہ سُناتے بھی رہتے ہیں لیکن اُن کی معرفت میں کچھ بھی ترقی نظر نہیں آتی اورمعمولی بشریت سے اُن کی عرفانی حالت کا درجہ بڑھا ہوا معلوم نہیں دیتا بلکہ وہی موٹی سمجھ اورسطحی خیالات اور فطرتی تاریکی اور پستی اُن میں دکھائی دیتی ہے اور اُن کے اخلاقی یا ذہنی یاروحانی قوےٰ میں کوئی امر عام عادت سے بڑھ کر نظر نہیں آتا۔ پھر کیونکر ایسے لوگوں کو ہم مُلہم سمجھیں اور ا س چشمۂ فیض کا ہم کلام مان لیویں۔جس کے قرب اور شرف مکالمت سے خارق عادت تبدیلی پیدا ہوجانا ضروری ہے۔ کم سے کم اس قدرتبدیلی کہ بعض باتیں