جو مجرّد تقلیدی اٹکلوں یا عقلی ڈھکوسلوں سے ہرگز مل نہیں سکتا۔ کیونکہ تقلیدی علوم محدود و مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص وناتمام ہیں اورہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان کی توسیع کریں۔ کیونکہ جس قدرہمارا عرفان ہو گا اُسی قدرہم میں ولولہ و شوق جوش مارے گا۔ کیا ہمیں باوجود ناقص عرفان کے کامل ولولہ و شوق کی کچھ توقع ہے ؟ نہیں کچھ بھی نہیں۔ سوحیرت اورتعجب ہے کہ وہ لوگ کیسے بدفہم ہیں جو ایسے ذریعہ کاملہ وصولِ حق سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتے ہیں جس سے روحانی زندگی وابستہ ہے۔
یاد رکھنا چاہیئے کہ روحانی علوم اورروحانی معارف صرف بذریعہ الہامات و مکاشفات ہی ملتے ہیں اورجب تک ہم وہ درجہ روشنی کا ؔ نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتی۔ صرف کوّے کی طرح یا بھیڈی کی مانند ایک نجاست کوہم حلوہ سمجھتے رہیں گے اورہم میں ایمانی فراست بھی نہیں آئے گی۔ صرف لومڑی کی طرح داؤ پیچ بہت یاد ہوں گے۔
ہم ایک بڑے بھاری مطلب کے لئے جو یقینی معرفت ہے پیدا کئے گئے ہیں اور وہی معرفت ہماری نجات کا مدار بھی ہے جو ہریک خبیث اور مغشوش طریق سے ہمیں آزادی بخش کر ایک پاک اورشفاف دریا کے کنارے پرہمارا منہ رکھ دیتی ہے اور وہ صرف بذریعہ الہام الٰہی ہمیں ملتی ہے۔ جب ہم اپنے نفس سے بکلّی فنا ہوکر درد مند دل کے ساتھ لایُدرک وجودمیں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دریامیں پڑنے سے عند العود کچھ آثار و انوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔سو جس چیز کو اس دنیا کے لوگ بنظرِ حقارت دیکھتے ہیں۔ درحقیقت وہی ایک چیز ہے جومدت کے جدا شدہ کو ایک دم میں اپنے محبوب سے ملاتی ہے وہی ہے جس سے عشاق الٰہی تسلّی پاتے ہیں اور طرح طرح کی نفسانی قیدوں سے بیک بار اپنا پَیر باہر نکا لؔ لیتے ہیں جب تک وہ سچی روشنی دلوں پر نازل نہ ہو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ کوئی دل منوّر ہوسکے۔ غرض انسانی عقل کی ناقابلیت اور رسمی علوم کی محدودیّت ضرورتِ الہام پر