اس شراب طہور کا مزہ نہیں چکھا اور نہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ سچا ایمان اس کو حاصل ہو۔ بلکہ رسم اور عادت پر خوش ہے اور کبھی نظر اس طرف اُٹھا کر نہیں دیکھتا کہ مجھے خداوند کریم پر یقین کہاں تک حاصل ہے اور میری معرفت کا درجہ کس حد تک ہے اور مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا میری اندرونی کمزوریاں دور ہوں اور میرے اخلاق اور اعمال اور ارادوں میں ایک زندہ تبدیلی پیدا ہوجائےؔ ۔ اور مجھے وہ عشق اور محبت حاصل ہوجائے جسکی وجہ سے میں باآسانی سفرِ آخرت کر سکوں اور مجھ میں ایک نہایت عمدہ قابل ترقی مادہ پیدا ہوجائے۔
بے شک یہ بات سب کے فہم میں آسکتی ہے کہ انسان اپنی اس غافلانہ زندگی میں جو ہر دم تحت الثریٰ کی طرف کھینچ رہی ہے اور علاوہ اس کے تعلقات زن وفرزند اور ننگ وناموس کے بوجھل اور بھاری پتھر کی طرح ہر لحظہ نیچے کی طرف لے جارہے ہیں ایک بالائی طاقت کا ضرور محتاج ہے جو اس کو سچی بینائی اور سچا کشف بخش کر خدائے تعالیٰ کے جمال باکمال کا مشتاق بنا دیوے۔ سوجاننا چاہیئے کہ وہ بالائی طاقت الہام ربّانی ہے جو عین دُکھ کے وقت میں سرور پہنچاتا ہے اور مصائب کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے بڑے آرام اور لذّت کے ساتھ کھڑا کردیتاہے۔ وہ دقیق دردقیق وجود جس نے عقلی طاقتوں کو خیرہ کر رکھاہے اور تمام حکیموں کی عقل اوردانش کو سکتہ میں ڈال دیاہے وہ الہام ہی کے ذریعہ سے کچھ اپنا پتہ دیتاہے اور انا الموجود کہہ کرسالکوں کے دلوں کو تسلّی بخشتا ہے اور سکینت نازل کرتاہے اور ا نتہاؔ ئی وصول کی ٹھنڈی ہوا سے جان پُژمردہ کو تازگی بخشتاہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ قرآن کریم ہدایت دینے کے لئے کافی ہے مگرقرآن کریم جس کو ہدایت کے چشمہ تک پہنچاتا ہے اُس میں پہلی علامت یہی پیداہوجاتی ہے کہ مکالمہ طیّبہ الٰہیہ اس سے شروع ہوجاتا ہے جس سے نہایت درجہ کی انکشافی معرفت اور چشم دید برکت ونورانیت پیداہوجاتی ہے اور وہ عرفان حاصل ہونا شروع ہو جاتاہے