یہ معنے لکھے ہیں جیسا کہ تفسیر کی عبارت یہ ہے وقال الحسن وجماعۃ وانّہ یعنی وان القراٰن لعلم للسّاعۃ یعلمکم قیامھا ویخبر کم باحوالھا و اھوالھا فلا تمترن بھا یعنی فلا تشکن فیھا بعد القران یعنی حسن اور ایک جماعت نے اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ قرآن قیامت کے لئے نشان ہے اور زبان قال اور حا لؔ سے خبر دے رہا ہے کہ قیامت اور اُس کے حالات اور اس کے ہولناک نشان واقع ہو نیوالے ہیں سو بعد اس کے کہ قرآن قیامت کے آنے پر اپنے اعجازی بیانات اور تاثیرات احیاء موتیٰ سے دلیل محکم قائم کر رہا ہے تم شک مت کرو۔
(۱۳)سوال۔الہام جس کی بناء پر حلقہ اجماع اُمت سے خروج اختیار کیا گیا ہے خود بے اصل اور بے حقیقت اور بے سود چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔
امّا الجواب۔پس واضح ہو کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ اجماع کو پیشگوئیوں سے کچھ علاقہ نہیں۔اجماع اُن امور پر ہوتا ہے جن کی حقیقت بخوبی سمجھی گئی اور دیکھی گئی اور دریافت کی گئی اور شارع علیہ السلام نے اُن کے تمام جزئیات سمجھادئے دکھادئے سکھلا دئے جیسے صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حج و عقائد تو حید و ثواب و عقاب۔مگر یہ دنیوی پیشگو ئیاں تو ابھی مخفی امور ہیں جن کی شارح علیہ السلام نے اگر کچھ شرح بھی بیان کی تو ایسی کہ جو استعارہ کی طرف توجہ دلاتی ہے۔مثلاًکیا ان احادیث پر اجماع ثابت ہو سکتا ہے کہ مسیح آکر جنگلو ںؔ میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا اور دجاّل خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور ابن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھر کے فرض طوافِ کعبہ بجالائے گا۔کیا معلوم نہیں کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گذرے ہیں وہ کیسے بے ٹھکانہ اپنی اپنی کمین۱ہانک رہے ہیں۔اگر کوئی بات اجماع کے طورپر تصفیہ یا فتہ ہوتی تو کیوں وہ لوگ مختلف خیالات کو ظاہر کرتے کیا کفر کا خوف نہیں تھا؟
اب رہی یہ بات کہ الہام بے اصل اور بے سود اور بے حقیقت چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔سو جاننا چاہیئے کہ ایسی باتیں وہی شخص کرے گا جس نے کبھی
۱ ایڈیشن اول کے متن میں صحیح لفظ پڑھا نہیں جا رہا۔ غالباً ’’تکیں‘‘ ہے۔