یعنی ؔ قرآن کے ساتھ ہم نے زمین مردہ کو زندہ کیا۔ایسا ہی حشر اجساد بھی ہوگا۔پھر فرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی ہم قرآن کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہے ہیں اور پھر فرماتا ہے 33 ۲؂ یعنی اے لو گو جان لو کہ زمین مر گئی تھی اور خدااب نئے سرے اس کو زندہ کر رہا ہے۔غرض جا بجا قرآن شریف کو نمونہ قیا مت ٹھہرایا گیا ہے بلکہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت میں ہی ہوں جیسا کہ فرمایا ہے وانا الحاشر الذی یحشر الناس علٰی قد می یعنی میں ہی قیامت ہوں میرے قدموں پر لوگ اُٹھائے جاتے ہیں یعنی میرے آنے سے لوگ زندہ ہورہے ہیں۔میَں قبروں سے انہیں اُٹھا رہا ہوں اور میرے قدموں پر زندہ ہونے والے جمع ہوتے جاتے ہیں۔اور درحقیقت جب ہم ایک منصفانہ نگاہ سے عرب کی آبادیوں پر نظر ڈالیں کہ اپنی روحانی حالت کی رُوسے وہ کیسے قبرستان کے حکم میں ہو گئے تھے اور کس درجہ تک سچائی اور خداترسی کی رُوح اُن کے اندر سے نکل گئی تھی اور کیسے وہ طرح طرح کی خرابیوں کی وجہ سے جو اُن کے اخلاق اور اعمال اور عقائدؔ پر اثر کر گئی تھیں سڑگل گئے تھے تو بلا اختیار ہمارے اندر سے یہ شہادت نکلتی ہے کہ اُن کا زندہ کرنا جسمانی طور پر مُردوں کے جی اُٹھنے سے بمراتب عجیب تر ہے جس کی عظمت نے بے شمار عقلمندوں کی نگاہوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ آیت موصوفہ بالا کے حقیقی معنے یہ ہیں جو ہم نے ذکر کئے ہیں یعنی خدائے تعالےٰ جسمانی طور پرمُردو ں کے جی اُٹھنے پر روحانی طور پر مردوں کا جی اُٹھنا بطور بدیہی نشان کے پیش کرتا ہے جو درحقیقت دلوں پر نہا یت مؤثر ہوا اور بے شمار کفّار اس نشان کے قائل ہو گئے اور ہو تے جاتے ہیں۔اور ایک جماعت محققین کی بھی یہی معنے آیت موصو فہ بالا کے لیتی ہے۔چنانچہ تفسیر معالم میں زیر تفسیر اس آیت کے