تو محدثیت جوقرآن شریف میں نبوت کے ساتھ اور رسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے جس کے لئے صحیح بخاری میں حدیث بھی موجود ہے اس کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا؟ قرآن شریف کی وہ قرأت یاد کرو کہ جو ابن عباس نے لی ہے اور وہ یہ ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدّث الا اذا تمنّٰی القی الشیطٰن فی امنیتہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطٰن ثم یحکم اللہ اٰ یٰتہٖ۔ وحی الٰہی پر صرف نبوت کاملہ کی حد تک کہاں مُہر لگ گئی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس آیت کے کیا معنے ہیں ؟ 333 ۱ ۔ اے غافلو! اس اُمت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگر حسب مراتب۔
(۱۲) سوال۔ سورۃ زخرف میں یہ آیت موجود ہے333 ۲ (الجزو نمبر۲۵)یعنی وہ قیامت کے وجود پر نشان ہے سو تم باوجودموجود ہونے نشان کے قیامت کے بارے میں شک مت کرو۔نشان سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں جو قیامت کےؔ قریب نازل ہوں گے اور اس آیت سے اُن کانازل ہونا ثابت ہوتاہے۔
اماالجواب۔ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کرپھر مُردوں کے جی اُٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو۔ سو اس آیت پر غور کرکے ہریک عقلمند سمجھ سکتاہے کہ اس کو حضرت عیسیٰ کے نزول سے کچھ بھی تعلق نہیں آیت تو یہ بتلا رہی ہے کہ وہ نشان مُردوں کے جی اٹھنے کا اب بھی موجود ہے اور منکرین کو ملزم کررہی ہے کہ اب بھی تم کیوں شک کرتے ہو۔ اب ہریک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب اُن کاآسمان سے نازل ہونا مُردوں کے جی اُٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہو گا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدائے تعالیٰ لوگوں کو کیوں کر ملزم کرسکتا ہے