کیااس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے؟ کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اورکوئی نام و نشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اَب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے کیا اُن کی طرف سے یہ عذر صحیح طورپر نہیں ہو سکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا ؔ نشان قیامت کا کہاں ظہورمیں آیا جس کی وجہ سے فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔ کیا یہ اتمام حجت کاطریق ہے ؟ کہ دلیل تو ابھی پردۂ غیب میں ہو اور یہ سمجھاجائے کہ الزام پورا ہو گیا ہے۔ ایسے معنے قرآن شریف کی طرف منسو ب کرنا گویا اس کی بلاغت اورپُرحکمت بیان پر دھبّہ لگانا ہے۔سچ ہے کہ بعض نے یہی معنے لئے ہیں مگر انہوں نے سخت غلطی کھائی بلکہ حق بات یہ ہے کہ اِنّہ‘ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف مُردوں کے جی اُٹھنے کے لئے نشان ہے کیونکہ اس سے مُردہ دل زندہ ہورہے ہیں۔ قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلتے آتے ہیں اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں خود اپنے تئیں قیامت کا نمونہ ظاہر کرتاہے جیسا کہ اللہ جلّشانُہٗ فرماتا ہے(سورۃ فرقان الجزونمبر ۱۹) یعنی ہم نے آسمان سے پاک پانی اُتاریعنی قرآن تا ہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں پھرفرماتا ہے