کے یہ معنے کئے تو کہاں سے سمجھا گیا کہ پہلے معنوں سے انکار کیا ہے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ خیرالقرون نہیں کہلاتا؟ کیا اس زمانہ کی عبادات ثواب میں بڑھ کر نہیں تھیں ؟ کیا اُس زمانہ میں نصرتِ دین کے لئے فرشتے نازل نہیں ہوتے تھے ؟ کیا روح الامین نازل نہیں ہوتا تھا ؟ پس ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر کے تمام آثار و انوار و برکات اُس زمانہ میں موجود تھے ایک ظلمت بھی موجود تھی جس کے دُور کرنے کے لئے یہ انوار و ملائک اور روح الامین اور ؔ طرح طرح کی روشنی نازل ہورہی تھی۔ پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقدّس زمانہ کا نام بھی الہام الٰہی سے لیلۃ القدر ظاہر کیا گیا تو اس سے کونسی قباحت لازم آگئی؟ جو شخص قرآن شریف کے ایک معنی کو مسلّم رکھ کر ایک دوسرا لطیف نکتہ اس کا بیان کرتاہے تو کیا اس کا نام مُلحد رکھنا چاہیئے؟ اس خیال کے آدمی بلا شبہ قرآن شریف کے دشمن اور ا س کے اعجاز کے منکر ہیں۔ (۱۰) سوال۔ ملائک اور جبرئیل علیہ السلام کے وجود سے انکار کیا ہے اور انکو توضیح مرام میں صرف کواکب کی قوتیں ٹھہرایاہے۔ اماالجواب۔یہ آپ کا دھوکا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ عاجز ملائک اور حضرت جبرائیل ؑ کے وجود کو اُسی طرح مانتا ہے جس طرح قرآن اور حدیث میں وارد ہے اور جیسا کہ قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ کی رُو سے ملائک کے اجرامِ سماوی سے خادمانہ تعلقات پائے جاتے ہیں یا جو جو کام خاص طورپر انہیں سپرد ہورہا ہے اسی کی تشریح رسالہ توضیح مرام میں ہے۔ چو بشنوی سخن اہل دل مگو کہ خطااست سخن شناس نۂ دلبرا خطا اینجااست (۱۱) سوال۔ رسالہ فتح اسلام میں نبوّت کا دعویٰ کیا ہے۔ امّاالجواب۔ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خد اؔ ئے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔ جس حالت میں رویائے صالحہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصّہ ہے