امّاالجوب۔پس واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں اس عقیدہ کی تکذیب کر دی جبکہ بیان کر دیا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اورپھر مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کاکہیں ذکرنہیں کیا اَور حدیثوں میں بھی اس مدعا کے بارہ میں کہیں قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملے گی جو مسیح ابن مریم کا زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے جانا بیان کرتی ہو۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس عقیدہ کی تکذیب کرنے میں کچھ فرق نہیں رکھا۔ آنے والے مسیح کو اُمّتی ٹھہرایا۔ حُلیہ اوّل و آخر میں اختلاف ڈال دیا اور مسیح کا فوت ہوجانابیان کردیا۔ سواس قدر بیان کافی تھا۔ اورچونکہ پیشگوئیوں میں خلق اللہ کے ابتلا کے لئے یہ بھی منظور ہوتا ہے کہ کچھ کیفیت اُن کی پوشیدہ رکھی جائے اس لئے کسی قدر پوشیدہ بھی رکھاگیا تا وقت پر صادقوں اورکاذبوں کا امتحان ہوجائے۔ اوریہ بیان بھی صحیح نہیں ہے کہ عیسائیوں کا متفق علیہ یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح دنیا میں پھرآئیں گے کیونکہ بعض فرقے اُن کے حضرت مسیح کے فوت ہوجانے کے قائل ہیں۔ اورحواریوں کی دونوؔ ں ا نجیلوں نے یعنی متی اوریوحنا نے اس بیان کی ہرگز تصدیق نہیں کی کہ مسیح درحقیقت آسمان پر اٹھایا گیا۔ ہاں مرقس اور لوقا کی انجیل میں لکھاہے مگر و ہ حواری نہیں ہیں اورنہ کسی حواری کی روایت سے انہوں نے لکھا۔
(۹) سوال۔ لیلۃ القدر کے اَور معنی کر کے نیچریت اورباطنیت کا دروازہ کھول دیا ہے۔
امّاالجواب۔معترض صاحب نے اس اعتراض سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے اس جگہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ پہلے معنے لیلۃ القدر کے جو علماء کرتے ہیں وہ بھی مسلّم اور بجا ہیں اور ساتھ اُن کے یہ بھی معنے ہیں۔ اور اِن دونوں میں کچھ منافات نہیں۔ قرآن شریف ظہر بھی رکھتا اور بطن بھی اور صدہا معارف اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔ پس اگر اس عاجز نے تفہیم الٰہی سے لیلۃالقدر