یا اُس چشمہ شیریں کی طرح ہے جو خس وخاشاک سے چھپا دیا جائے۔ اِسی وجہ سے اسلام تنزّل کی حالت میں پڑا ہے۔ اُس کا خوبصورت چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا دلکش اندام نظر نہیں آتا۔مسلمانوں کا فرض تھا کہ اس کی محبوبانہ شکل دکھلانے کے لئے جان توڑ کر کوشش کرتے اور مال کیا بلکہ خون کو بھی پانی کی طرح بہاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنی غایت درجہ کی نادانی سے اس غلطی میں بھی پھنسے ہوئے ہیں کہ کیا پہلی تالیفات کافی نہیں۔ نہیں جانتے کہ جدید فسادوں کے دُور کرنے کے لئے جو جدید در جدید پیرائیوں میں ظاہر ہوتے جاتے ہیں مدافعت بھی جدید طور کی ہی ضروری ہے اور نیز ہر ایک زمانہ کی تاریکی پھیلنے کے وقت میں جو نبی اور رسول اور مصلح آتے رہے کیا اُس وقت پہلی کتابیں نہیں تھیں۔ سو بھائیو یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اُترے۔ میں اِسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ خداتعالےٰ سورة القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اُس کا کلام اور اس کا نبی لیلة القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدّد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلة القدر میں ہی اُترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلة القدر کیا چیز ہے؟ لیلة القدر اُس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دُور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلةالقدر رکھا گیا ہے۔ مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اُس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دَور کو قریب الا ختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گذر جا تا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مُصلحوں کی پوشیدہ طو ر پر تخم ریزی ہوجاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر طیار ہو رہتے ہیں اسی کی طرف اللہ جلّشانہ اشارہ فرماتا ہے کہ ٍ۱۔ یعنی اس لیلة القدرکے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے