شرف حاصل کرنے والا اس اسّی ۰۸ برس کے بڈھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کونہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پا لیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گذر چکے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلة القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور رُوح القدس اس مصلح کے ساتھ ربِّ جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تامستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمتِ غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔
اب اے مسلمانو غور سے اِن آیات کو پڑھو کہ کس قدر خدا تعالیٰ اس زمانہ کی تعریف بیان فرماتا ہے جس میں ضرورت کے وقت پر کوئی مصلح دنیا میں بھیجتا ہے کیا تم ایسے زمانہ کا قدر نہیں کرو گے کیا تم خدا تعالیٰ کے فرمودوں کو بنظر استہزاءدیکھوگے ؟
سو اے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو !میں یہ پیغام آپ لوگو ں تک پہنچا دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہیئے اور اس کے سارے پہلوﺅں کو بنظرِ عزّت دیکھ کر بہت جلد حقِ خدمت ادا کرنا چاہیئے۔ جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دَین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضہ کو خالصةً للّٰہ نذرمقرر کر کے اُس کے ادا میں تخلّف یا سہل انگاری کو روا نہ رکھے۔ اور جو شخص یکمشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے لیکن یاد رہے کہ اصل مدّعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے وہ یہی انتظام ہے کہ سچّے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرالیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں۔ ہاں جس کواللہ جلّشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس