ایسی تنگدستی نہیں۔ اور وہ لوگ جو کامل استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی اس طور پر اس کارخانہ کی مدد کر سکتے ہیں جو اپنی اپنی طاقت مالی کے موافق ماہواری امداد کے طور پر عہد پختہ کے ساتھ کچھ کچھ رقوم نذر اس کارخانہ کی کیا کریں۔ کسل اور سردمہری اور بدظنّی سے کبھی دین کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ بدظنّی ویران کرنے والی گھروں کی اور تفرقہ میں ڈالنے والی دلوں کی ہے۔ دیکھو جنہوں نے انبیاءکا وقت پایا انہوں نے دین کی اشاعت کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں کیں جیسے ایک مالدار نے دین کی راہ میں اپنا پیارا مال حاضر کیا ایسا ہی ایک فقیر دریوزہ گر نے اپنی مرغوب ٹکڑوں کی بھری ہوئی زنبیل پیش کر دی۔ اور ایسا ہی کئے گئے جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فتح کا وقت آگیا۔ مسلمان بننا آسان نہیں۔ مومن کا لقب پانا سہل نہیں۔ سو اے لوگو اگر تم میں وہ راستی کی روح ہے جو مومنوں کو دی جاتی ہے تو اس میری دعوت کو سرسری نگاہ سے مت دیکھو۔ نیکی حاصل کرنے کی فکر کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں آسمان پر دیکھ رہا ہے کہ تم اس پیغام کو سُن کر کیاجواب دیتے ہو۔
اے مسلمانو ! جو اولوالعزم مومنوں کے آثار باقیہ ہو اور نیک لوگوں کی ذرّیت ہو انکار اور بدظنّی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے اردگر پھیل رہی ہے اور بے شمار لوگ اس کے دامِ فریب میںآگئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ کس قدر زور سے دین اسلام کے مٹانے کے لئے کوشش ہو رہی ہے۔ کیا تم پر یہ حق نہیں کہ تم بھی کوشش کرو۔ اسلام انسان کی طرف سے نہیں کہ تا انسانی کوششوں سے برباد ہو سکے مگر افسوس اُن پر ہے کہ جو اس بیخ کنی کے لئے درپے ہیں اور پھر دُوسرا افسوس اُن پر ہے جو اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور اپنے نفس کی عیّاشیوں کے لئے تو اُن کے پاس سب کچھ ہے مگر اسلام کے حصّہ کا اُن کی جیب میں کچھ نہیں۔ کاہلو تم پر افسوس !کہ آپ تو تم اعلاءکلمہ اسلام اور دینی انوار کے دکھلانے کی کچھ قوت نہیںرکھتے مگر خدا تعالیٰ کے قائم کردہ کارخانہ کو بھی جو اسلام کی چمکار ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے شکر کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے۔آج کل اسلام اس چراغ کی طرح ہے جو ایک صندوق میں بند کر دیا جائے