کرسکتا ہے جو ایک مامور من اللہ کی نسبت جن جن فتوحات اور امور عظیمہ کا تذکرہ پیشگوئی کے لباس میں ہوتاہے اس میں یہ ہرگز ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ سب کچھ اُسی کے ذریعہ سے پورا بھی ہو جائے بلکہ اُس کے خالص متبعین اس کے ہاتھوؔ ں اورپَیروں کی طرح سمجھے جاتے ہیں اوران کی تمام کارروائیاں اُسی کی طر ف منسوب ہوتی ہیں۔ جیسے ایک سپہ سالار کسی معرکۂ جنگ میں عمدہ عمدہ سپاہیوں اور مدبّروں کی مدد سے کسی دشمن کو گرفتارکرتاہے یا قتل کردیتاہے تو وہ تمام کارروائی اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور بلا تکلّف کہا جاتا ہے کہ اُس نے گرفتارکیا یا قتل کیا۔پس جبکہ یہ محاورہ شائع متعارف ہے تو اس بات میں کونسا تکلّف ہے کہ اگر فرض کے طورپر بھی تسلیم کرلیں کہ بعض پیشگوئیوں کا اپنی ظاہری صورت پر بھی پوراہونا ضروری ہے تو ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کرلینا چاہیئے کہ وہ پیشگوئیاں ضرورپوری ہوں گی اور ایسے لوگوں کے ہاتھ سے اُن کی تکمیل کرائی جائے گی کہ جو پورے طورپر پیروی کی راہوں میں فانی ہونے کی وجہ سے اور نیز آسمانی روح کے لینے کے باعث سے اس عاجز کے وجود کے ہی حکم میں ہوں گے اورایک پیشگوئی بھی جو براہین میں درج ہوچکی ہے اسی کی طرف اشار ہ کررہی ہے اوروہ الہام یہ ہے یا عیسٰی انّی متوفیک ورافعک الیّ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامۃ۔ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیاہے کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکاراہے۔
(۸)سوال۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھاؔ کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے پس اگر یہ عقیدہ صحیح نہیں تھا تو کیوں خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں ا س کی تکذیب نہ کی بلکہ حدیثوں میں ابن مریم کے آنے کاوعدہ دیا گیا۔