ظلّی طور پر وہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف سے مثیلِ مسیح کا نام پاوے اور موعود میں بھی داخل ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ گو مسیح موعود ایک ہی ہے مگر اس ایک میں ہو کر سب موعود ہی ہیں۔ کیونکہ وہ ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی مقصد موعود کی روحانی یگانگت کی راہ سے متممّ و مکمل ہیں اور اُن کو اُن کے پھلوں سے شناخت کرو گے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ کے وعدے جو اس کے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی نسبت ہوتے ہیں کبھی تو بلا واسطہ پورے ہوتے ہیں اورکبھی بالواسطہ اُن کی تکمیل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم کو بھی جو نصرت اور فتح کے وعدے دئے گئے تھے وہ اُن کی زندگی میں پورے نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے نبی کے ذریعہ سے جو تمام نبیوں کا سردار ہے یعنی سیدنا وامامنا حضرت محمد مصطفےٰ خاتم الرسل کے ظہور سے پورے ہوئے اور اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو جو کنعان کی فتح کی بشارتیں دی گئی تھیں بلکہ صا ؔ ف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیا گیا تھا کہ تُو اپنی قوم کو کنعان میں لے جائے گا اور کنعان کی سرسبز زمین کا انہیں مالک کردے گا۔ یہ وعدہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا اوروہ راہ میں ہی فوت ہوگئے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیشگوئی غلط نکلی جو اب تک توریت میں موجود ہے۔ کیونکہ موسےٰ کی وفات کے بعد موسوی قوت اورموسوی روح اس کے شاگرد یوشع کو عطا ہوئی۔اوروہ خدائے تعالیٰ کے حکم اور اس کے نفخِ روح سے موسیٰ میں ہو کر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام بجا لایا جو موسیٰ کا کام تھا۔ سوخدائے تعالیٰ کے نزدیک وہ موسیٰ ہی تھا کیونکہ اُس نے موسیٰ میں ہوکر اور موسیٰ کی پیروی میں پوری فنا اختیارکرکے اور خدائے تعالیٰ سے موسوی روح پا کر اس کام کو کیا تھا۔ ایسا ہی ہمارے سیّد ومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توریت میں بعض پیشگوئیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بلاواسطہ پوری نہیں ہوسکیں بلکہ وہ بواسطہ اُن خلفائے کرام کے پوری کی گئیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اورپیروی میں فانی تھے۔سو اس میں کون کلام