ایسا ہی دجّال کے طواف کعبہ میں کس قدردور از حقیقت تاویلوں سے کا م لیا ہے۔ سو اگر فریق ثانی اِن مقامات میں تاویلوں سے بکلّی دستکش رہتے تو البتہ و ہؔ ہمیں ماوّل خیال کرنے میں کسی قدر معذور ٹھہرتے لیکن اب وہ آپ ہی اس راہ پر قدم مار کر کس مُنہ سے ہم کو یہ الزام دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چونکہ درحقیقت یہ کشفی عبارتیں استعارات سے پُر ہیں اس لئے کسی فریق کے لئے ممکن نہیں کہ ان کو ہریک جگہ ظاہر پر حمل کر سکے۔لمبے ہاتھوں کی حدیث لمبے ہاتھ کرکے بتلارہی ہے کہ اِن مکاشفات میں ظاہر پر زور مت دو ورنہ دھوکہ کھاؤ گے مگر کوئی اُس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو قبر کے عذاب کی نسبت حدیثوں میں بکثرت یہ بیان پایا جاتا ہے کہ ان میں گنہگار ہونے کی حالت میں بچّھو ہوں گے اور سانپ ہوں گے اور آگ ہوگی۔اگر ظاہر پر ہی ان حدیثوں کو حمل کرنا ہے تو ایسی چند قبریں کھودو اور اُن میں سانپ اور بچّھو دکھلاؤ۔
پھر بعد اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ظاہر پر ہی اِن بعض مختلف حدیثوں کو جو ہنوز ہماری حالتِ موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیا جائے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو اس عاجز کے ایک ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں پورا کردیوے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا مرتبہ رکھتا ہو۔اور ہریک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا درحقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔ بالخصوص جب بعض متبعین فنا فی الشیخ کی حالت اختیار کر کے ہمار ا ؔ ہی روپ لے لیں اور خدائے تعالیٰ کا فضل انہیں وہ مرتبہ ظلّی طورپر بخش دیوے جو ہمیں بخشا۔ تو اس صورت میں بلاشبہ اُن کا ساختہ پرداختہ ہمار ا ساختہ پرداختہ ہے۔ کیونکہ جو ہمارے راہ پر چلتاہے۔ وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتاہے وہ درحقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے۔ اس لئے وہ جزو اورشاخ ہونے کی وجہ سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں بھی شریک ہے کیونکہ وہ کوئی جدا شخص نہیں۔پس اگر