اب ایک مدّت دراز کے بعد اپنے خاص الہام سے ظاہرفرمایا کہ یہ وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ برابر دس ۱۰ برس تک لوگ اس نام کو کتاب براہین میں پڑھتے رہے اور خدائے تعالیٰ نے دس برس تک اس دوسرے الہام کو جو پہلے الہام کے لئے بطور تشریح تھا پوشیدہ رکھا تا اس کے پُرحکمت کام ایک غور کرنے والے کی نظر میں بناوٹ سے مصفّٰی ثابت ہوجائیں۔ کیونکہ بناوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہو سکتاجس کی بنیاد ایک طول طویل مدّت سے پہلے ہی رکھی گئی ہو۔ فتدبروا یا اولوالابصار۔ (۷) سوال۔ یہ جو بیان کیا گیاہے کہ ممکن ہے کہ اور مثیل مسیح بھی آویں تو کیا اُن میں سے موعود ایک ہی ہے جو آپ ہیں یا سب موعود ہوں گے اور کن کن کو ہم سچا موعود تسلیم کریں؟ امّاالجواب۔پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اوراحادیث صحیحہ کے رُ وؔ سے ضروری طورپر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آگیا اور آج وہ وعدہ پورا ہوگیا جو خدائے تعالیٰ کی مقدّس پیشگوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔ لیکن اگرکسی کے دل میں یہ خلجان پیدا ہوکہ بعض احادیث کی اس آنے والے مسیح کی حالت سے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی جیسے مسلم کی دمشقی حدیث۔ تو اول تو اس کا یہی جواب ہے کہ درحقیقت یہ سب استعارات ہیں اورمکاشفات میں استعارات غالب ہوتے ہیں۔بیان کچھ کیا جاتا ہے اور مرا د اُس سے کچھ لیاجاتاہے۔ سو یہ ایک بڑادھوکہ اور غلطی ہے جو اُن کو ظاہری طورپر مطابق کرنے کے لئے کوشش کی جائے اور یا اس تردّد اور فکر اورحیرت میں اپنے تئیں ڈال دیاجائے کہ کیوں یہ نشانیاں ظاہری طورپر مطابق نہیں آتیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ان حدیثوں کی تشریح کے وقت فریق مخالف کوبھی اکثر مقامات میں تاویلوں کی حاجت پڑی ہے اوربڑے تکلّف کے ساتھ تاویلیں کی ہیں۔ جیسے مسیح ابن مریم کا یہ عمدہ کام جو بیان کیا گیا ہے جو وہ دنیا میں آکر خنزیروں کو قتل کرے گا۔ دیکھنا چاہیئے کہ اس کی تشریح میں علماء نے کس قدر الفاظ کو ظاہر سے باطن کی طرف پھیرنے کے لئے کوشش کی ہے۔