پیداہونے کی وجہ سے یہوداکا پوتا ہی تھا اس وجہ سے اس کا نام سیلا ہی رکھ دیا گیا۔ اسی توریت پیدائش با بؔ ۴۸ آیت پندرہ ۱۵ میں حضرت یعقوب کی یہ دعا ذکر کی ہے کہ اُس نے یوسف کے لئے برکت چاہی اور یوسف کے لڑکوں کے لئے دعاکرکے کہا کہ وہ خداجس نے ساری عمر آج کے دن تک میری پاسبانی کی اِن جوانوں کو برکت دیوے اور جو میرا اور میرے باپ دادوں ابراہام اور اسحاق کا نام ہے سو اُن کا رکھا جاوے۔پس اللہ جلّشانہُ‘ کی اس عادت قدیمہ سے انکار نہیں ہو سکتاکہ وہ روحانی مناسبت کی وجہ سے جو ایک کا نام ہے وہ دوسرے کا رکھ دیتا ہے۔ ابراہیمی المشرب اس کے نزدیک ابراہیم ہے اور موسوی المشرب اس کے نزدیک موسیٰ ہے اور عیسوی المشرب اس کے نزدیک عیسیٰ ہے اور جو اِن تمام مشربوں سے حصہ رکھتا ہے وہ اِن تمام ناموں کا مصداق ہے۔ ہاں اگر کوئی امر بحث کے لائق ہے تو یہ ہے کہ ابن مریم کے لفظ کو اس کے ظاہری اور متبادر معنوں سے کیوں پھیراجائے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بوجہ قیام قرینہ قویہ کے کیونکہ قرآن کریم اورحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضاحت ناطق ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ جاں بحق ہوا اور خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا اور اپنے بھائیوں میں جا ملا۔ اور رسول مقبول نبی آخر الزمان نے اپنی معراج کی رات میں یحییٰ نبی شہید کے ساتھ دوسرے آسمان میں اُس کو دیکھا یعنی گذشتہ اور وفات یافتہ لوگوں کی جماعت میں اُس کو پایا۔ قرآن کریم و احادیث صحیحہ یہ امید اور بشارت بتواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن مریم اور دوسرے مثیلؔ بھی آئیں گے مگر کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ کوئی گذشتہ اور وفات یافتہ نبی بھی پھر دنیامیں آجائے گا۔ لہٰذا یہ بات ببداہت ثابت ہے کہ ابن مریم سے وہ ابن مریم رسول اللہ مراد نہیں ہے جو فوت ہو چکا اور فوت شدہ جماعت میں جاملا اور خدائے تعالیٰ کی اس حکمت عجیبہ پر بھی نظر ڈالو کہ اُس نے آج سے قریبًا دس برس پہلے اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا اور بتوفیق و فضل خود براہین میں چھپواکر ایک عالم میں اس نام کو مشہور کر دیا۔