وفات کا ذکر ہے اپنی طرف سے اَور اَور معنے گھڑتے ہیں۔اب دیکھنا چاہیئے کہ ظواہرنصوص سے انہوں نے مُنہ پھیرایا ہم نے؟ ہاں ابن مریم کے نزول سے جو حدیثوں میں آیا ہے ہمارے نزدیک درحقیقت ابن مریم مراد نہیں ہے مگر اس سے لازم نہیں آتا کہ ہم نے نص کو ظاہر سے باطن کی طرف پھیرا ہے بلکہ قطع نظر الہام الٰہی سے یہ استعارہ اس لئے ماننا پڑ ا کہ نصوص بیّنہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ اُس کو حقیقت پر حمل کرنے سے روکتی ہیں چنانچہ ہم بار بار ان دلائل صریحہ واضحہ کو بیان کر چکے ہیں کہاں تک اعادہ کلام کریں۔
(۶) سوال۔ مسیح موعود کے ساتھ احادیث میں کہیں مثیل کا لفظ دیکھا نہیں جاتا۔ یعنی یہ کسی جگہ نہیں لکھا کہ مثیل مسیح ابن مریم آوے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم آوے گا۔
اما ؔ الجواب۔ پس سوچنا چاہیئے کہ جب خدائے تعالیٰ نے آنے والے مثیل کا ابن مریم ہی نام رکھ دیا تو پھر وہ اس کو مثیل ابن مریم کر کے کیوں لکھتا۔ مثلاً تم سوچو کہ جو لوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ و داؤد وعیسیٰ وغیرہ رکھتے ہیں اگرچہ اُن کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی اور خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں مگر پھر وہ اپنی اولاد کو اس طرح کر کے تو نہیں پکارتے کہ اے مثیل موسیٰ۔اے مثیل داؤد۔ اے مثیل عیسیٰ۔ بلکہ اصل نام ہی بطور تفاؤل پکارا جاتا ہے۔ پس کیا جو امر انسان محض تفاؤل کی راہ سے کر سکتا ہے وہ قادرمطلق نہیں کر سکتا ؟ کیا اس کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کو ایک دوسرے آدمی کے مشابہ کرکے وہی نام اُس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اُس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت یحییٰ کا نام ایلیانہیں رکھ دیا تھا؟ کیا اسی روحانی مناسبت کی وجہ سے حضرت مسیح ابن مریم کا نام توریت پیدائش باب ۴۹ میں سیلا نہیں رکھا گیا اور سیلا یہودا بن یعقوب علیہ السلام کے پوتے کا نام تھا۔ یہود اکو اسی باب میں مسیح ابن مریم کے آنے کی ان لفظوں میں بشارت دی گئی کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا جبتک سیلا نہ آوے۔ یہ نہ کہا گیا کہ جب تک ابن مریم نہ آوے۔ چونکہ مسیح ابن مریم اُس خاندان سے