اے حضرات مولوی صاحبان ! کیوں لوگوں کو بلا میں ڈالتے ہو اور کیوں اپنے علم سے بڑھ کر دعویٰ کرتے ہو۔ اگر ابن مریم کے نزول کی حدیث میں کوئی مخالفانہ قرینہ قائم نہ ہوتا اور صرف الہام ہی کے ذریعہ ایکؔ مسلمان اُس کے معنے آپ پر کھولتا کہ ابن مریم سے اِس جگہ درحقیقت ابن مریم مرادنہیں ہے تب بھی بمقابل اس کے آپ لوگوں کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا تھا کہ ابن مریم سے مراد درحقیقت ابن مریم ہے۔ کیونکہ مکاشفات میں استعارات غالب ہیں اور حقیقت سے پھیرنے کے لئے الہام الٰہی قرینہ قویہ کا کام دے سکتا ہے اور آپ حسن ظن کے لئے مامور ہیں۔ لیکن اس جگہ تو صرف الہام ہی نہیں دوسرے قرائن قویہ بھی موجود ہیں کیا یہ کم قرینہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کی وفات کے بارے میں تو کئی آیتیں بیان کیں مگر اُن کے زندہ رہنے اور زندہ اُٹھائے جانے پر اشارہ تک نہیں کیا۔ کیا یہ کم قرینہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے ابن مریم کا وہ حُلیہ بیان نہیں کیا جو جانیوالے کا بیان فرمایا۔ کیا یہ کم قرینہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کو ایک اُمتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا ۔ اور یہ عذر کہ اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ نصوص کو ظاہر پر حمل کیا جائے یعنی قرآن اور حدیث کے ظاہری معنے لینے چاہئیں۔ سو واضح ہو کہ یہ عذر درحقیقت ایسا عذر ہے جس سے ہمارے مخالفوں پر ہماری حجت پوری ہوتی ہے کیونکہ یہ ناجاؔ ئز طریقہ انہیں لوگوں نے اختیار کیا ہے کہ نصوص بیّنہ کلام الٰہی کو بغیر قیام قرینہ کے باطن کی طرف پھیر رہے ہیں۔ قرآن کریم نے اپنے پچیس مقام میں توفّی کے لفظ کو قبض روح کے معنوں پر استعمال کیا ہے اور صاف جا بجا ظاہر کردیا ہے کہ توفّی کے یہ معنے ہیں کہ روح قبض کی جائے اور جسم کو چھوڑ دیاجائے۔لیکن یہ لوگ (خدا ان کو ہدایت دے ) تیئیس مقام میں تو یہی معنے مذکورہ بالا قبُول کرتے اور دو متنازعہ فیہ جگہوں میں جہاں مسیح کی