دوستوں نے محض محبت کی راہ سے خدمت کی۔ سو وہ سب اس کارخانہ کے لابدی اور پیش آمدہ کاموں میں وقتاًفوقتاًخرچ ہوتا رہا اور چونکہ حکمت الٰہی نے سلسلہ تالیف کتاب کو تاخیر میں ڈالا ہوا تھااِس واسطے اُس کے لئے دوسری اہم شاخوں سے جو بامرالٰہی قائم تھیں کچھ بچت نکل نہ سکی اور تاخیرطبع کتاب میں حکمت یہی تھی کہ تا اس فترت کی مدّت میں بعض دقائق و حقائق مولّف پر کامل طور سے کھل جائیں اور نیز مخالفین کا سارا بخار باہر نکل آوے۔ اَب جو ارادہ الٰہی پھر اس طرف متعلق ہوا کہ بقیہ تالیفات کی تکمیل ہو تو اُس نے اِس مضمون دعوت کے لکھنے کی طرف مجھے توجہ دی۔ سو اس وقت مجھ کو تکمیل تالیفات کی سخت ضرورت ہے۔ براہین کا بہت ساحصہ ہنوز طبع کے لائق ہے۔ اگر وہ طیا ر ہو جائے تو خریداروں کو اور اُن سب کو پہنچایا جائے جن کو محض للہ پہلے حصّے دیئے گئے ہیں اور آئندہ دینے کا وعدہ ہے۔ ایسا ہی دوسرے رسائل جیسے اَشعةُالقرآن ،سراج منیر، تجدید دین ، اربعین فی علامات المقربین اور قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھنے کا بھی ارادہ ہے اور یہ بھی دل میں جوش ہے کہ عیسائی وغیرہ مذاہب باطلہ کے رد میں اور اُن کے اخبارات کے مقابل پر ماہواری ایک رسالہ نکلا کرے۔ اوران سب کاموں کے مسلسل اجراءکے لئے بجُز انتظام سرمایہ اور مالی امداد کے اور کوئی روک درمیان نہیں۔ اگر ہم کو یہ میسّر آ جائے کہ ایک مطبع ہمارا ہو اور ایک کاپی نویس ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس رہے اور تمام ضروری مصارف کی وجوہ ہمیں حاصل ہوں یعنی جو کچھ کاغذات اورچھپوائی اور کاپی نویسوں کی تنخواہ میں خرچ ہوتا ہے وہ سارے اخراجات وقتاًفوقتاًبہم پہنچتے رہیں تو ان پنج شاخوں میں سے اس ایک شاخ کی پورے طور پر نشوونما پانے کا کافی انتظام ہو جائے گا۔ اے ملک ہند کیا تجھ میں کوئی ایساباہمّت امیر نہیں کہ اگر اور نہیں تو فقط اِسی شاخ کے اخراجات کامتحمل ہو سکے۔ اگر پانچ مومن ذی مقدرت اس وقت کو پہچان لیں تو اِن پانچ شاخوں کا اہتمام اپنے اپنے ذمہ لے سکتے ہیں۔ اے خدا وند خدا تُو آپ اِن دلوں کو جگا۔اسلام پر ابھی ایسی مفلسی طاری نہیں ہوئی۔ تنگدلی ہے