حال ہے تو لائق اعتبار نہ رہیں اور اس لائق نہ رہیں کہ نبی کی صدقِ نبوت پر بطور دلیل اور شاہد ناطق کے تصّور کی جائیں یا کسی مخالف منکر کے سامنے پیش کی جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات کہ پیشگوئیاں کبھی اپنے ظاہر پرہی پوری ہوجاتی ہیں اورکبھی باطنی طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔ اس سے ربانی پیشگوئیوں کی عظمت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا بلکہ باریک بینوں کی نظر میں اور بھی عظمت کھلتی ہے۔کیا اگر ایک فلاسفر کا قول کوئی موٹی عقل کا آدمی اُلٹے طورپر سمجھ لیوے اور پھر اس کے معقول معنے جو نہایت مدلل اور ثابت شدہ ہیں کھل جائیں تو اس غلطی سے ان صحیح معنوں کو کچھ حر ج ؔ پہنچ سکتاہے ؟ ہرگز نہیں۔
ماسوا اس کے پیشگوئیوں میں ایک قدرِ مشترک بہرحال ایساباقی رہتا ہے کہ خواہ وہ حقیقت پر محمول سمجھی جائیں اور یا بالآخر کوئی مجازی معنے نکل آویں وہ قدر مشترک بدیہی طورپر ظاہر کردیتا ہے کہ یہ پیشگوئی درحقیقت سچی اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے۔
علاوہ اس کے جن پیشگوئیوں کومخالف کے سامنے دعویٰ کے طورپر پیش کیاجاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور بداہت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طورپر توجہ کر کے اُن کا زیادہ تر انکشاف کرالیتے ہیں مگر معمولی طورپر بہت کچھ چھپے ہوئے گوشے پیشگوئیوں کے ہوتے ہیں۔ اور یہ سراسر نادانی کی ضد ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ خواہ نخواہ پیشگوئی حقیقت پر محمول ہوا کرتی ہے۔ جس نے یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو دیکھا ہوگا وہ اس بات کو خوب جانتا ہو گا کہ کِس قدر پیشگوئیوں میں استعارات اُن کتابوں نے استعمال کئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مواضع میں دن ذکر کر کے اُس سے برس مراد لیا ہے۔ درحقیقت پیشگوئیاں از قبیل مکاشفات ہوتی ہیں اور اس چشمہ سے نکلتی ہیں جو استعارات کے رنگ سے بھرا ہوا ہے اپنیؔ خوابوں کو دیکھو کیا کوئی سیدھے طورپر بھی خواب آتی ہے۔ مگر شاذونادر۔ایسا ہی خدائے تعالیٰ مکاشفات کو استعارات کی خلعت سے آراستہ کرکے اپنے نبیوں کی معرفت