اس وقت مجھے اپنے ایک دوست کی بات یاد آئی ہے۔ خدا اس کو غریق رحمت کرے نام اس مرحوم کا حافظ ہدایت علی تھا اور یہ کسی زمانہ میں ضلع گورداسپور کے اکسٹرا اسسٹنٹ تھے اور مدّت تک بٹالہ میں تحصیلدار بھی رہے ایک جلسہ میں انہوں نے فرمایا کہ جس قدر بعض امورکے ظہور کا آخری زمانہ کے بارے میں وعدہ دیا گیا ہے اور بعضؔ پیشگوئیاں فرمائی گئی ہیں ہمیں اُن کی نسبت یہ اعتقاد نہیں رکھنا چاہیئے کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں ہی ظہور پذیر ہوں گی۔ تا اگرآئندہ اُن کی حقیقت کسی اَور طور پرکھلے تو ہم ٹھوکر نہ کھاویں۔ اور ہمارا ایمان سلامت رہ جائے۔ اورکہاکہ چونکہ غالبًا ہم اُسی زمانہ میں پیداہوئے ہیں جس کو آج سے کچھ کم تیرہ سو برس پہلے آخری زمانہ کے نام سے یادکیا گیا ہے۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ ان میں سے بعض پیشگوئیاں ہماری ہی زندگی میں ظاہر ہوجائیں۔ سو ہمیں اجمالی ایمان کا اصول محکم پکڑنا چاہیئے اور کسی شق پر ایسا زور نہیں دینا چاہیئے جیساکہ اس حالت میں دیاجاتا ہے کہ جب ایک حقیقت کی تہ تک ہم پہنچ جاتے ہیں۔تمّ کلامہ‘ اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اُمت کے اجماع کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں اور ہمارے حال کے مولویوں کو یہ سخت دھوکا لگاہوا ہے کہ پیشگوئیوں کو بھی جن کی اصل حقیقت ہنوز درپردۂ غیب ہے اجماع کے شکنجہ میں کھینچنا چاہتے ہیں۔ دراصل پیشگوئیاں حاملہ عورتوں سے مشابہت رکھتی ہیں اورمثلًا ہم ایکؔ حاملہ عورت کی نسبت یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کوئی بچہ ضرور ہے اور یقینًا وہ نو مہینے اور دس دن کے اند ر اندر پیدا بھی ہوجائے گا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا شکل رکھتا ہے اور اس کی حالت جسمی کیسی ہے اور اس کے نقوش چہرہ کس طرز کے واقع ہیں اور لڑکا ہے یا بلاشبہ لڑکی ہے۔ شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ اعتراض خلجان کرے کہ اگر پیشگوئیوں کا ایسا ہی