ظاہر کرتاہے سو اس صداقت کے قبول کرنے کا نام الحاد رکھنا خود الحاد ہے۔ کیونکہ الحاد اسی کو کہتے ہیں کہ ایک معنے اپنے اصل سے پھیرے جائیں۔ سو جبکہ خدائے تعالیٰ کے قانون قدرت نے مکاشفات اوررؤیائے صالحہ کے لئے یہی اصل مقرّر کردیاہے کہ وہ اکثر استعارات سے پُر ہوتے ہیں تو اس اصل سے معنے کو پھیرنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیشہ پیشگوئیاں ظاہرپر ہی محمول ہوتی ہیں اگر الحاد نہیں تو اور کیا ہے ؟ صوم اور صلوٰۃ کی طرح پیشگوئی کو بھی ایک حقیقت منکشفہ سمجھنا بڑی غلطی اور بڑا بھارا دھوکہ ہے۔ یہ احکام تو وہ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھلادئے اور بکلّی اُن کا پردہ اُٹھادیا۔مگر کیا ان پیشگوئیوں کے حق میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ یہ من کل الوجوہ مکشوف ہیں اور ان میں کوئی ایسی حقیقت اور کیفیت مخفی نہیں جو ظہور کے وقت سمجھ آسکے اگر کوئی ایسی حدیث صحیح موجود ہے تو کیوں پیشؔ نہیں کی جاتی۔آپ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ علم و فراست نہیں رکھتے۔صحیح بخاری کی حدیث کو دیکھو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ابریشم کے ٹکڑہ پر حضرت عائشہ صدیقہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ تیرے نکاح میں آئے گی تو آپ نے ہر گز یہ دعویٰ نہ کیا کہ عائشہ سے در حقیقت عائشہ ہی مراد ہے۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر درحقیقت اس عائشہ کی صورت سے عائشہ ہی مراد ہے تو وہ مل ہی رہے گی ورنہ ممکن ہے کہ عائشہ سے مراد کوئی اَور عورت ہو۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ابوجہل کے لئے مجھے بہشتی خوشہ انگور دیا گیا مگر اس پیشگوئی کا مصداق عکرمہ نکلا۔ اورجب تک خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر تمام مراتب کسی پیشگوئی کے آپ پر نہ کھولے تب تک آپ نے اُس کی کسی شق خاص کا کبھی دعویٰ نہ کیا۔
آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو جہل سے شرط لگائی اور قرآن شریف کی وہ پیشگوئی مدار شرط رکھی کہ اور تین برس کا عرصہ ٹھہرایا