اُن مقامات کو جن میں مسیح کی موت کا ذکر ہے یونہی بحث سے خارج سمجھ کر خاموشی اختیار کرتے اور اگر فرض کے طور پر یہ بھی مانؔ لیں کہ کوئی صحابہ میں سے یہی سمجھ بیٹھا تھا کہ ابن مریم سے ابن مریم ہی مراد ہے تو تب بھی کوئی نقص پیدانہیں ہوتا۔ کیونکہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میں قبل اس کے جوپیشگوئی ظہور میں آوے بعض اوقات نبیوں نے بھی غلطی کھائی ہے پھر اگر کسی صحابی نے غلطی کھائی تو کون سے بڑے تعجب کی بات ہے۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اورفہم تمام اُمت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے بلکہ اگر ہمارے بھائی جلدی سے جوش میں نہ آجائیں تو میرا تو یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کی فہم اور فراست کے برابر نہیں۔مگر پھر بھی بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے اُن کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی میں پہلے اس سے چند دفعہ لکھ چکا ہوں کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طورپر فرما دیاتھا کہ میری وفات کے بعد میری بیبیوں میں سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو ہی بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کردئے چونکہ آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پیشگوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی اس لئے منع نہ کیا کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے۔ آخر اس غلطی کو پیشگوئی کے ظہور کے وقت نے نکالا۔ اگر زمانہ اُن بیبیوں امّہات المؤمنین کو مہلت دیتا اور وہ سب کی سب ہمارے اِس زمانہ تک زندہ رہتیں تو صاف ظاہر ہے کہ صحابہ کے عہد سے لے کر آج تک تمام اُمت کا اِسی بات پر اتفاق ہوجاتا کہ پہلے لمبے ہاتھ والی بی بی فوت ہوگی اورپھرظہور کے وقت جب کوئی اَور ہی بیوی پہلے فوت ہوجاتی جس کے اَوروں کی نسبت لمبے ہاتھ نہ ہوتے تو اس تمام اجماع کو کیسی خجالتیں اُٹھانی پڑتیں اورکس طرح ناحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کراتے اوراپنے ایمان کو شبہات میں ڈالتے۔