(جیسا کہ اب تک بھی جو ۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ ؁ء ہے پوری نہیں ہوئی ) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اُس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والاہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیاکہ شاید اس کے اَور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکوننّ من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اُس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تُو شک مت کر۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اورمیرے دل میں یقین ہوگیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدائے تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے اُن کو کہتا ؔ ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تُجھے کیوں نوامید کردیا تُو نوامید مت ہو۔ (۵) سوال:۔ ابن مریم کے اُترنے کا ذکر جو احادیث میں موجود ہے کسی نے سلف اور خلف میں سے اس کی یہ تاویل نہیں کی کہ ابن مریم کے لفظ سے جو ظاہر طورپر حضرت عیسیٰ مسیح سمجھا جاتا ہے درحقیقت یہ مراد نہیں ہے بلکہ کوئی اس کا مثیل مراد ہے۔ ما سوا اس کے اس بات پر اجماع ہے کہ نصوص کو ظاہر پر حمل کیا جائے اور بغیر قرائن قویہ کے باطن کی طرف نہیں پھیرنا چاہیئے۔ امّاالجوب۔ پس واضح ہو کہ سلف اور خلف کے لئے یہ ایک ایمانی امر تھا جو پیشگوئی کو اجمالی طور پر مان لیا جائے انہوں نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم اس پیشگوئی کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور درحقیقت ابن مریم سے ابن مریم ہی مرادہے۔ اگراُن کی طرف سے ایسا دعویٰ ہوتا تو وہ دجّال کے فوت ہوجانے کے قائل نہ ہوتے اور نہ قرآن شریف کے