تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفاء نہ کیا جو تُو نے پہلے سے کررکھا تھا کہ تُو مرے گا نہیں بلکہ یونس کی طرح تیرا حال ہوگا۔ اگر کہاجائے کہ خدائے تعالیٰ کے وعد ۂ حفاظت میں مسیح نے کیوں شک کیا سو واضح ہو کہ یہ شک ضعف بشریت سے ہے۔ جلالی تجلّی کے سامنے بشریت کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ ہریک نبی کو خدائے تعالیٰ یہ دن دکھاتا ہے۔ اوّلؔ وہ کوئی وعدہ بشارت اپنے نبی کو دیتاہے اورپھر جب وہ نبی اس وعدہ پر خوش ہوجاتا ہے تو ابتلا کے طور پر چاروں طرف سے ایسے موانع قائم کر دیتاہے کہ جو نومیدی اور ناکامی پر دلالت کرتے ہوں بلکہ قطع اور یقین کی حد تک پہنچ گئے ہوں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے ایک طرف تو ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدرکی لڑائی میں فتح اور نصرت کی بشارت دی اور دوسری طرف جب لڑائی کا وقت آیا تو پھر پتہ لگا کہ مخالفوں کی اس قدر جمعیت ہے کہ بظاہر کامیابی کی امید نہیں۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت کرب و قلق ہوا اور جناب الٰہی میں رو رو کر دعائیں کیں کہ یا الٰہی اس گروہ کو فتح بخش اور اگر تُو فتح نہیں دے گا اور ہلاک کر دے گا تو پھر قیامت تک کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔سو یہ الفاظ درحقیقت اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے بلکہ حالات موجودہ کو خلاف مراددیکھ کر خدائے تعالیٰ کے غنائے ذاتی پر نظر تھی اور اس کی جلالی ہیبت سے متأثر ہو گئے تھے اور درحقیقت ہریک جگہ جو قرآن شریف میں نبی کریم کو کہا گیا ہے کہ تُو ہمارے وعدہ میں شک مت کر وہ سب مقامات اِسی قسمؔ کے ہیں جن میں بظاہر سخت ناکامی کی صورتیں پیدا ہو گئی تھیں اور اسباب مخالفہ نے ایسا رُعب ناک اپنا چہرہ دکھلایا تھا جن کو دیکھ کر ہریک انسان ضعف بشریت کی وجہ سے حیران ہوجاتا ہے۔ سو اِ ن وقتوں میں نبی کریم کو بطور تسلی دہی کے فرمایا گیا کہ اگرچہ حالت نہایت نازک ہے مگر تو بباعث ضعف بشریت شک مت کر یعنی یہ خیال مت کر کہ شاید اس پیشگوئی کے اور معنے ہوں گے۔