مولویوں کو جواب دیا کہ اسؔ زمانہ کے حرامکا ر لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں لیکن اُن کو بجُز یونس نبی کے معجزہ کے اور کوئی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔
یعنی یہ معجزہ دکھایا جائے گا کہ جیسے یونس نبی تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور مرا نہیں۔ایسا ہی قدرت الٰہی سے مسیح بھی تین دن تک بحالت زندگی قبر میں رہے گا اور نہیں مرے گا۔
اب خیال کرنا چاہیئے کہ اگر مسیح کے الفاظ مذکورہ بالاکو حقیقی موت پر حمل کر لیں تو یہ معجزہ یونس کی مشابہت کا باطل ہو جائے گا کیونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں بحالت زندگی رہا تھا نہ مردہ ہو کر۔ سواگر مسیح مرگیا تھا اورموت کی حالت میں قبر میں داخل کیا گیا تو اس کو یونس کے اس واقعہ سے کیا مشابہت۔اور یونس کے واقعہ کو اسکے اس واقعہ سے کیا مناسبت؟ اورمُردوں کو زندوں سے کیا مماثلت سو یہ کافی اورکامل قرینہ ہے کہ مسیح کا یہ کہنا کہ میں تین دن تک مروں گا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ اس سے مجازی موت مراد ہے جو سخت غشی کی حالت تھی۔
اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ مسیح نے مصلوب ہونے کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ آج میں بہشت میں داخل ہو ں گا، پس اس سے صفائی کے ساتھؔ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ سو واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا تھامگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو مسیح پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں انّی متوفیک ورافعک الیّ وارد ہے۔ سو اُس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہو گا۔چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں لہٰذا اس نے برعایتِ اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مر جاؤں گا۔ سو بباعث ہیبت تجلّی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اُس پر غالب ہوگیا تھا تبھی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا !اے میرے خدا!