خدائے تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرنا چاہا۔ اور سخت گنہگار مومنوں کی بھی کسی قدر عزت ہوتی ہے مگر انہوں نے کچھ بھی پروانہ رکھ کر عام طور پر یہ تقریریں کیں اورخط لکھے اور اشتہار شائع کئے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس مشابہت کے پیدا کرنے کے لئے اُن سے ایک کام لیا ہے اور دوزخی یا بہشتی ہونے کی اصل حقیقت تو مرنے کے بعد ہریک کو معلوم ہوگی جس وقت بعض بصد حسرت دوزخ میں پڑے ہوئے کہیں گے 33 ۱
عیب رِنداں مکن اے زاہد پاکیزہ سرشت
توچہ دانی کہ پس پردہ چہ خوب ست و چہ زشت
اب حاصل کلا م یہ ہے کہ جو رفع کا لفظ حضرت مسیح کے لئے قرآن کریم میں آیا ہے وہی لفظ الہام کے طور پر اس عاجز کے لئے بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
ا گر کوئیؔ یہ اشکال پیش کرے کہ مسیح تو انجیل میں کہتا ہے کہ ضرور ہے کہ میں مارا جاؤں اور تیسرے دن جی اٹھوں تو بیان مذکورہ بالا کیوں کر اس کے مطابق ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس موت سے حقیقی موت مراد نہیں ہے بلکہ مجازی موت مرادہے۔ یہ عام محاورہ ہے کہ جو شخص قریب مرگ ہو کر پھربچ جائے اس کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئے سرے سے زندہ ہوا مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کِیلیں اُس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں تھی اور عام طور پر یہ بول چال ہے کہ جو شخص ایسی مصیبت تک پہنچ کر بچ جائے اس کی نسبت یہی کہتے ہیں کہ وہ مر مر کر بچااوراگر وہ کہے کہ میں تو نئے سرے زندہ ہوا ہوں تو اس بات کو کچھ جھوٹ یا مبالغہ خیال نہیں کیا جاتا۔
اور اگر یہ سوال ہو کہ کونسا قرینہ خاص مسیح کے لفظ کا اس بات پر ہے کہ اس موت سے مراد حقیقی موت مراد نہیں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرینہ بھی خود حضرت مسیح نے فرمایا ہے جبکہ فقیہ اور فریسی اور یہودیوں کے مولوی اکٹھے ہو کر اس کے پاس گئے کہ تو نے مسیح ہونے کا تو دعویٰ کیا پر اس دعویٰ کو ہم کیوں کر بغیر معجزہ کے مان لیں۔ تو حضرت مسیح نے اُن فقیہوں اور