یہ گورنمنٹ بے گناہ کی رعایت رکھتی ہے اورپلاطوس کی طرح رعیت کے رُعب میں نہیں آتی مگر ہماری اس قوم نے ذلیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا۔ تادونوں طرف سے مشابہت ثابت کرکے دکھادیوے۔ انہیں الہام بھی ہوگئے کہ یہ جہنمی ہے آخر جہنّم میں پڑے گا اور اُن میں داخل نہیں ہو گا جن کاعزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔ سو آج مَیں اُس الہام کے معنی سمجھا جو اس سے کئی سال پہلے براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے3333 ۱؂ یعنی یہ مولو ی صاحبان عبدالرحمان و عبد الحق تو مجھے اس وقت قطعی دوزخی بناتے ہیں لیکن اُن کے اس بیان سے دس سال پہلے خدائے تعالیٰ مجھے جنّتی ہونے کا وعدہ دے چکا ہے اور جس طرح یہودیوں نے خیال کیا تھا کہ نعوذ باللہ عیسیٰ مسیح *** ہے اورہرگز عزت کے ساتھ اس کا رفع نہیں ہو گا اور اُن کے ردّ میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اِسی طرح خدائے تعالیٰ نے اس جگہ بھی پہلے سے ہی اپنے علم قدیم کی وجہ سے یہ الہام بطور پیشگوئی اس عاجز کے دل پر القا کیا چونکہ وہ جانتا تھا کہ چندسال کے بعدمیاں عبدالحق اور میاں عبدالرحمن اُسی طرح اس عاجز کو *** ٹھہرائیں گے جس طرح یہودیوں نے حضرت مسیح کو ٹھہرایا تھا اِس لئے اُس نے پیش از وقوع اس پیشگوئی کو براہین میں درج کرا کر گویا سارے جہان میں مشہور کردیا۔ تا اس کی قدرت و حکمت ظا ہر ہو اور تایہ بھی معلوم ہو کہ جس طرح مسیح کے عہد کے مولویوں نے اس کو *** سمجھا اور اس کے بہشتی ہونے سے انکار کیا ؔ اور اس کا عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہونااور راستبازوں کی جماعت میں جاملنا قبول نہ کیا ایسا ہی اس عاجز کے ہم مذہب مولویوں نے اس ناکارہ کو