سو خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہ الزام مسیح کے سر پر سے اُٹھاوے۔ سو اوّل اس نے اس بنیاد کو باطل ٹھہرایا جس بنیادپر حضرت مسیح کا *** ہونا نابکار یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے دلوں میں سمجھ لیا تھا اور پھر بعد ا س کے بتصریح یہ بھی ذکر کر دیا کہ مسیح نعوذ باللہ ملعون نہیں جو رفع سے روکا گیا ہے بلکہ عزت کے ساتھ اس کا رفع ہوا ہے۔ چونکہ مسیح ایک بے کس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسرکرکے چلا گیا اوریہودیوں نے اس کی ذلّت کے لئے بہت ساغلوکیا۔ اُس کی والدہ پر ناجائز تہمتیں لگائیں اور اس کو ملعون ٹھہرایا اور راستبازوں کی طرح اُس کے رفع سے انکارکیا۔ اور نہ صرف یہو دؔ یوں نے بلکہ عیسائی بھی مؤخر الذکر خیال میں مبتلا ہوگئے اور کمینگی کی راہ سے اپنی نجات کا یہ حیلہ نکالا کہ ایک راستباز کو ملعون ٹھہراویں اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر مسیح کے ملعون ہونے پرہی نجات موقوف ہے اور تبھی نجات ملتی ہے کہ مسیح جیسے ایک راستباز پاک روش خدائے تعالیٰ کے پیارے کو *** ٹھہرایاجاوے تو َ حیف ہے ایسی نجات پر۔ اس سے تو ہزار درجہ دوزخ بہتر ہے۔ غرض جب مسیح کے لئے دونوں فریق یہود و نصاریٰ نے ایسے دُوراز ادب القاب روا رکھے تو خدائے تعالیٰ کی غیرت نے نہ چاہاکہ اس پاک رو ش کی عزت کو بغیر شہادت کے چھوڑ دیوے۔ سو اس نے جیسا کہ انجیل میں پہلے سے وعدہ دیا گیا تھا ہمارے سیّد ومولیٰ ختم المرسلین کو مبعوث فرما کر مسیح کی عزت اور رفع کی قرآن کریم میں شہادت دی۔ رفع کا لفظ قرآن کریم میں کئی جگہ واقع ہے ایک جگہ بلعم کے قصّہ میں بھی ہے کہ ہم نے اس کا رفع چاہا مگر و ہ زمین کی طرف جھک گیا۔اورایک ناکام نبی کی نسبت اس نے فرمایا 33 ۱ درحقیقت یہ بھی ایک ایسانبی ہے جس کی رفعت سے لوگوں نے انکارکیا تھا۔ اورچونکہ اس عاجز کی بھی مسیح کی طرح ذلّت کی گئی ہےؔ کوئی کافرکہتا ہے اور کوئی مُلحد اور کوئی بے ایمان نام رکھتا ہے اور فقیہ اورمولوی صلیب دینے کو بھی تیار ہیں جیساکہ میاں عبد الحق اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس شخص کے لئے مسلمانوں کو کچھ ہاتھ سے بھی کام لینا چاہیئے۔لیکن پلاطوس سے زیادہ