میں تین جگہ مسیح کا فوت ہوجانا بیان کیا گیا ہے۔ پھر افسو س کہ ہمارے مولوی صاحبان اُن مقامات پر نظر نہیں ڈالتے اوربعض اُن میں سے بڑی چالاکی سے کہتے ہیں کہ یہ تو ہم نے مانا کہ قرآن کریم یہی فرماتا ہے کہ مسیح فوت ہو گیا مگر کیا اللہ جلَّ شَانُہٗ اس بات پر قادر نہیں کہ پھر ز ندؔ ہ کر کے اس کو دنیا میں لاوے؟ مگر ان علماء کے علم اورفہم پر رونا آتا ہے۔ اے حضرات!ہم نے یہ بھی مانا کہ خدائے تعالیٰ ہریک چیز پر قادر ہے چاہے تو تمام نبیوں کو زندہ کر دیوے مگر آپ سے سوال تو یہ کیا تھا کہ قرآن شریف تو حضرت مسیح کو وفات تک پہنچا کر پھر چُپ ہو گیا ہے اگر آپ کی نظر میں کوئی ایسی آیت قرآن کریم میں ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ مسیح کو مارنے کے بعدپھرہم نے زندہ کر دیا تو وہ آیت پیش کیجئے ورنہ یہ قرآن شریف کا مخالفانہ مقابلہ ہے کہ وہ تومسیح کا فوت ہوجانا بیان کرے اورآپ اُس کے برخلاف یہ دعوےٰ کریں کہ مسیح مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔
بعض علماء نہایت سادگی سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے آگے جو رَافِعُکَ اور 3 ۱ قرآن کریم میں آیا ہے اس سے زندہ ہوجانا ثابت ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر یہ معنے سچ نہیں تو پھر بجُز مسیح کے اور کسی کے حق میں رَافِعُکَ کا لفظ کیوں نہیں آیا؟ مگر میں اسی رسالہ ازالہ اوہام میں اِن تمام وہموں کا مفصّل جواب لکھ چکا ہوں کہ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اُٹھائے جانا ہے۔جیسا کہ وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیحؔ کے ہر یک مومن کی روح عزت کیساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور مسیح کے رفع کا جو اس جگہ ذکر کیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح کو دعوتِ حق میں قریبًا ناکامی رہی اوریہودیوں نے خیال کیا کہ یہ کاذب ہے کیونکہ ضرور تھا کہ سچے مسیح سے پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہو سوانہوں نے اس سے انکار کیا کہ مسیح کا اورنبیوں کی طرح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہو بلکہ اس کو نعوذ باللہ *** قراردیا اور *** اس کو کہتے ہیں جس کو عزت کے ساتھ رفع نصیب نہ ہو