کہ ان عزیز مہما نوں کی خدمت اور دعوت اور ضیافت میں کیا کچھ خرچ ہوا ہو گا اور اُن کے سرما اور گرما کے آرام کے لئے ضروری طور پر کیا کچھ بنانا پڑا ہوگا۔ بے شک ایک دور اندیش آدمی تعجب میں پڑے گا کہ اس قدر گروہ کثیرکی مہمانداری کے تمام لوازم اور مراتب وقتاًفوقتاً کیوں کر انجام پذیر ہوئے ہوں گے اور آئندہ کس بنا پر ایسا بڑا کام جاری ہے۔ ایسا ہی وہ بیس ہزار اشتہار جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے۔ اور پھر بارہ ہزار سے کچھ زیادہ مخالفین کے سرگروہوں کے نام رجسٹری کراکر بھیجے گئے اور ملک ہند میں ایک بھی ایسا پادری نہ چھوڑا جس کے نام وہ رجسٹری شدہ اشتہار نہ بھیجے گئے ہوں۔ بلکہ یورپ اور امریکہ کے ممالک میں بھی یہ اشتہار ات بذریعہ رجسٹری بھیج کر حجت کو تمام کر دیا گیا۔ کیا اِن اخراجات پر غور کرنے سے یہ تعجب کا مقام نہیں کہ اس بضاعت مزجاة کے ساتھ کیوں کرتحمل اِن مصارف کا ہو رہا ہے اور یہ تو بڑے بڑے اخراجات ہیں۔اگر ان اخراجات کو ہی جانچا جائے کہ جو ہر مہینہ میں خطوط کے بھیجنے میں اُٹھانے پڑتے ہیں تو وہ بھی ایسی رقم کثیر نکلے گی جس کے مسلسل جاری رہنے کے لئے ابھی تک کوئی امدادی سبیل نہیں۔ اورجو لوگ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر حق کی طلب کی غرض سے اصحاب الصّفّہ کی طرح میرے پاس ٹھہرنا چاہتے ہیں اُن کے گزارہ کے لئے بھی مجھے آسمان کی طر ف نظر ہے اور میں جانتا ہوں کہ اِ ن پنجگانہ شاخوں کے قائم رکھنے کی سبیل آپ وہ قادر مطلق نکال دے گا جس کے ارادہ خاص سے اس کارخانہ کی بنا ہے مگر بنظر تبلیغ ضروری ہے کہ قوم کو اس سے مطلع کر دیں۔ میں نے سُنا ہے کہ بعض ناواقف یہ الزام میری نسبت شائع کرتے ہیں کہ کتاب براہین احمدیہ کی قیمت اورکسی قدر چندہ بھی قریب تین ہزار روپیہ کے لوگوں سے وصول ہوا۔ مگر اب تک کتاب بتمام وکمال طبع نہیں ہوئی۔ میں اِس کے جواب میں اُن پر واضح کرتا ہوں کہ روپیہ جو لوگوں سے وصول ہوا وہ صرف تین ہزار نہیں بلکہ علاوہ اس کے اور روپیہ بھی شاید قریب دس ۰۱ ہزار کے آیا ہوگاکہ جو نہ کتاب کے لئے چندہ تھا اور نہ کتاب کی قیمت میں دیا گیا تھا بلکہ بعض دعا کے خواستگاروں نے محض نذر کے طور پر دیا یا بعض