پیشگوئی کی صورت پر نہیں جیسا کہ ہمارے بھائی مولوی صاؔ حبان جو بڑے علم کا دم مارتے ہیں خیال کررہے ہیں۔ بلکہ یہ تو اس واقعہ کا بیان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھا یعنی یہودیوں اورعیسائیوں کے خیالات کی جو اُس وقت حالت تھی خدائے تعالیٰ اتمامًا للحجۃ اُنہیں سُنا رہا ہے اوراُن کے دلوں کی حقیقت اُن پر ظاہر کر رہا ہے اور اُن کو ملزم کر کے انہیں یہ سمجھارہا ہے کہ اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو مقابل پر آکر صاف طور پر دعویٰ کرو کہ یہ خبر غلط بتائی گئی ہے اور ہم لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر سمجھ بیٹھے ہیں کہ سچ مچ مسیح مصلوب ہو گیا ہے۔
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ آخر آیت میں جو یہ لفظ واقعہ ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ اس کلام سے اللہ جلَّ شَانُہٗ کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص مسیح کی عدم مصلوبیت سے یہ نتیجہ نہ نکال لیوے کہ چونکہ مسیح صلیب کے ذریعہ سے مارا نہیں گیا اس لئے وہ مر ا بھی نہیں۔ سو بیان فرما دیا کہ یہ تمام حال تو قبل از موت طبعی ہے اِس سے اُس موت کی نفی نہ نکال لینا جو بعد اس کے طبعی طور پر مسیح کو پیش آگئی۔ گویا اس آیت میں یوں فرماتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ ہمارے اِ س بیان پر بالا تفاق ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طورپر صلیب کی مو تؔ سے نہیں مرا صرف شکوک و شبہات ہیں۔ سو قبل ا س کے جو وہ لوگ مسیح کی موت طبعی پر ایما ن لاویں جو درحقیقت واقعہ ہو گئی ہے۔ اس موت کے مقدمہ پر اُنہیں ایمان ہے کیونکہ جب مسیح صلیب کی موت سے نہیں مرا جس سے یہود اور نصاریٰ اپنے اپنے اغراض کی وجہ سے خاص خاص نتیجے نکالنے چاہتے تھے تو پھر اُس کی طبعی موت پر بھی ایمان لانا اُن کے لئے ضروری ہے کیونکہ پیدائش کے لئے موت لازمی ہے۔ سو قبل موتہٖ کی تفسیر یہ ہے کہ قبل ایمانہٖ بموتہٖ ۔
اور دوسرے طور پر آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ مسیح تو ابھی مرابھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک و شبہ کے یہود و نصاریٰ کے دلوں میں چلے آتے ہیں۔ پس ان معنوں کی رُو سے بھی قرآن کریم بطور اشارۃ النص مسیح کے فوت ہوجانے کی شہادت دے رہاہے غرض قرآن شریف