بلا میں پڑے۔ سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑائیں اور چونکہ سخت آندھی تھی اور تاریکی ہو گئی تھی اور ہو اتیز چل رہی تھی اس لئے لوگ گھبرائے ہوئے تھے کہ کہیں جلد گھروں کو جاویں۔ سو سپاہیوں کا اس موقعہ پر خوب داؤ لگا۔ جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یونہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیا ں توڑی جائیں۔ اور ایک نے کہا کہ میں ہی اس لاش کو دفن کردوں گا ، اور آندھی ایسی چلی کہ یہودیوں کو اس نے دھکّے دے کر اس جگہ سے نکالا۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا اورپھر وہ حواریوں کو ملا اور اُن سے مچھلی لے کر کھائی لیکن یہودی جب گھروں میں پہنچے اور آندھی فروہو گئی تو اپنی نا تمام کا رروائی سے شک میں پڑ گئے اور سپاہیوں کی نسبت بھی اُن کے دلوں میں ظن پیداہوگیا۔چنانچہ اب تک عیسائیوں اوریہودیوں کا یہی حال ہے کہ کوئی اُن میں سے قسم کھا کر اور اپنےؔ نفس کے لئے بلا اور عذاب کا وعدہ دے کر نہیں کہہ سکتا کہ مجھے درحقیقت یہی یقین ہے کہ سچ (مچ )مسیح قتل کیا گیا۔یہ شکوک اُسی وقت پیدا ہو گئے تھے اورپولس نے اپنی چالاکی سے کوشش بھی کی کہ ان شکوک کو مٹاوے مگر وہ اَور بھی بڑھتے گئے۔ چنانچہ پولس کے بعض خطوط سے صاف ظاہر ہوتا ہے مسیح جب صلیب پرسے اتارا گیا تو اس کے زندہ ہونے پر ایک اَور پختہ ثبوت یہ پیدا ہو گیا کہ اس کی پسلی کے چھیدنے سے فی الفور اس میں سے خون رواں ہؤا۔ یہودی اپنی شتاب کاری کی وجہ سے اور عیسائی انجیل کی روئداد موجودہ کے لحاظ سے اس شک میں شریک ہیں۔ا ور کوئی عیسائی ایسا نہیں جو انجیل پر غور کرے اورپھر یقینی طور پر یہ اعتقاد رکھے کہ سچ مچ مسیح صلیب کے ذریعہ فوت ہو گیا بلکہ اُن کے دل آج تک شک میں پڑے ہوئے ہیں اور جس کفّارہ کو وہ لئے پھرتے ہیں اس کی ایسے ریگ کے تودہ پر بناء ہے جس کوانجیل کے بیانات نے ہی برباد کردیا ہے۔ سوقرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا یعنی یہ کہ